نئی دہلی َامریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد اسلام آباد گیا ہے، جہاں خطے کی صورتحال اور ایران کے ساتھ اہم مذاکرات پر بات چیت کی جائے گی۔ امریکی وفد کا استقبال فیلڈ مارشل عاصم منیر اور اسحاق ڈار نے کیا۔ وفد نور خان ائیر بیس پر اترا، جہاں سے انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے سرینا ہوٹل پہنچایا گیا۔اطلاعات کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی اہم بات چیت میں کچھ تاخیر ہو رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے وفود پہلے الگ الگ پاکستان کے وزیر اعظم شہبازشریف سے ملاقات کریں گے، جس کے بعد ایران اور امریکہ کے وفود آمنے سامنے مذاکرات کریں گے۔
ایرانی وفد کی شہباز شریف سے ملاقات
اطلاعات کے مطابق ایرانی وفد جلد ہی شہباز شریف سے ملاقات کریں گے، جس میں مذاکرات کے ایجنڈے اور خطے کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس سے قبل ایرانی وفد کی ملاقات پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر سے بھی ہو چکی ہے، جس میں علاقائی سلامتی کے امور زیر بحث آئے۔
لبنان میں اسرائیلی حملہ
دریں اثنا، جنوبی لبنان میں ایک بجلی گھر پر اسریئیل کے حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اس واقعے نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنائے جانے سے صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی تعیناتی
دی وال اسٹریٹ جنرل کی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے پہلے ہی جنگی طیارے اور حملہ آور طیارے مغربی ایشیا میں تعینات کر دیے ہیں۔ اس کے علاوہ 82ویں ائیر بور ن ڈویژن کے تقریباً 1500 سے 2000 فوجیوں کو آئندہ چند دنوں میں مشرق وسطیٰ میں تعینات کیے جانے کا امکان ہے۔ماہرین کے مطابق پاکستان میں ہونے والی یہ ملاقات خطے کی موجودہ کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی یہ بات چیت کس حد تک کامیاب رہتی ہے اور آیا اس سے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں کمی آ سکے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

