Bharat Express DD Free Dish

Asim Munir

سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات پر بڑھتے ہوئے حملوں کے درمیان ایران نے سعودی عرب اور حوثیوں کے مابین ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ ان حملوں سے سعودی عرب کو اقتصادی نقصان پہنچا ہے۔ آبنائے ہرمز میں ٹینکروں پر ایرانی حملوں نے بھی خلیجی خطے سے تیل کی برآمدات کو متاثر کیا ہے۔

نئے قانون سے عاصم منیر کے فوجی اختیارات اورکمان کا دائرہ مزید مضبوط ہوگا۔ ان کے پاس فوجی اہلکاروں کو ریٹائر، ڈسچارج یا برخاست کرنے کا بھی اختیارہوگا۔ نئے قانون کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسیز کو پاکستانی وزیراعظم کا قومی سلامتی، دفاع اور تینوں افواج سے متعلق معاملات میں اہم فوجی مشیربھی مقرر کیا گیا ہے۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کو کنٹینرز سے بند کر دیا گیا ہے، جس سے اقتدار کی تبدیلی کی قیاس آرائیوں کو ہوا ملتی ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملک کے سب سے بڑے گھوٹالے اور نظام کے خاتمے کا دعویٰ کرتے ہوئے اپنی ہی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ آرمی چیف عاصم منیر کی حمایت کی بدولت شہباز شریف کی کرسی خطرے میں نظر آنے لگی ہے۔

برازیلین صحافی کے دعوے کو پاکستانی صحافی نے مسترد کردیا۔ پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس ابتدائی معاہدے کو مفاہمت کی یادداشت (ایم اویو) سمجھا جاتا ہے۔

قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی بھی جمعہ کو سوئٹزرلینڈ پہنچ چکے ہیں۔ قطر کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطوں اور ثالثی کی کوششوں میں اہم کردار ادا کرنے والا ملک تصور کیا جا رہا ہے۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس نیوز ایجنسی نے ہفتہ کو رپورٹ دی کہ اگر واشنگٹن نے لچک نہ دکھائی تو تہران کے ساتھ امن مذاکرات ناکام ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایرانی مذاکراتی ٹیم کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ ایران نے تین بنیادی شرائط پیش کی ہیں۔

پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حتمی مسودے کا اعلان چند گھنٹوں میں متوقع ہے۔ فریقین نے کئی معاملات پر اتفاق کیا ہے۔ اب اس کا باضابطہ اعلان ہونے سے پوری دنیا کو بڑی راحت مل سکتی ہے۔

ایران نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس کی فوج پہلے سے زیادہ مضبوط اور تیار ہے اور وہ اپنی خودمختاری، قومی مفادات اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق ایرانی وفد جلد ہی شہباز شریف سے ملاقات کریں گے، جس میں مذاکرات کے ایجنڈے اور خطے کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس سے قبل ایرانی وفد کی ملاقات پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر سے بھی ہو چکی ہے، جس میں علاقائی سلامتی کے امور زیر بحث آئے۔

امریکی میڈیا سی این این نے دو سینئر حکام کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان کی جانب سے خود کو اہم ثالث کے طور پر پیش کیے جانے کے بعد اس ہفتے اسلام آباد میں ایک اہم ملاقات کے انعقاد کی تیاری کی جا رہی ہے۔