US-Iran Tension: آبنائے ہرمز پھر بنا میدانِ جنگ! امریکہ کی مسلسل فضائی سرگرمیاں، ایران کی جوابی کارروائی نے سب کو چونکا دیا
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں سکیورٹی خدشات ایک بار پھر شدت اختیار کر گئے ہیں۔ امریکہ نے سمندری ناکہ بندی اور نئے اقتصادی پابندیوں کے ذریعے ایران پر دباؤ بڑھا دیا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے متضاد دعوؤں کے باعث خطے کی صورتحال بدستور انتہائی کشیدہ بنی ہوئی ہے۔
Iran-US Tensions: امریکہ پر ذرہ برابر بھی بھروسا نہیں، ٹرمپ کی دھمکیوں پر محمد باقر قالیباف کا سخت ردعمل،اگر معاہدہ توڑا گیا تو ایران جنگ کے لئے تیار
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران نے کبھی بھی اپنی دفاعی تیاریوں میں کمی نہیں کی اور اگر امریکہ کسی بھی معاہدے سے پیچھے ہٹتا ہے تو ایران پوری طاقت کے ساتھ اپنا دفاع کرے گا، ہر چیلنج کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گا اور ایرانی عوام کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے گا۔
US-Iran Conflict: صرف 72 گھنٹوں میں پورا بدل گیا منظرنامہ: امریکہ۔ایران جنگ دوبارہ بھڑکنے سے تیل کی قیمتوں میں آگ، کتنی ہوا اصافہ؟
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور برینٹ کروڈ کی قیمت 80 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔ اگر یہ تیزی برقرار رہی تو بھارت میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، جبکہ درآمدی بل اور تجارتی خسارے میں بھی اضافے کا خدشہ ہے۔
US-Iran Tension: آبنائے ہرمز پر حملے سے ٹرمپ برہم، خامنہ ای کے جنازے کے دوران ایران پر بمباری، تیل کی منڈی کو بھی بڑا جھٹکا
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران فوجی کارروائیوں اور اقتصادی پابندیوں نے مغربی ایشیا میں غیر یقینی صورتحال کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ ان پیش رفتوں کے بعد عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں اور توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔
USA Vs Iran War Complete Timeline: فروری میں تباہی، اپریل میں جنگ بندی، پھر جون میں دوبارہ جنگ، دیکھیے امریکہ اور ایران کشیدگی کی مکمل ٹائم لائن
سال 2026 میں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عسکری کارروائیوں کی مکمل ٹائم لائن سامنے آ گئی ہے۔ اس میں فروری میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے دعووں اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سے لے کر جون میں کارگو بحری جہاز پر حملے اور 30 جون، منگل کو ہونے والے اہم اعلیٰ سطحی اجلاس تک کے تمام اہم واقعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں اس پورے تنازع کی اندرونی کہانی اور مختلف مراحل کی تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔
Us Iran Peace Deal: امریکہ-ایران امن معاہدہ: نیتن یاہو بن سکتے ہیں بڑی رکاوٹ، کیا 19 جون کو امریکہ-ایران ڈیل پر واقعی مہر لگے گی؟
امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کا اعلان ہو چکا ہے اور 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں اس پر دستخط کی تجویز سامنے آئی ہے، لیکن اس معاہدے کی کامیابی ابھی بھی کئی بڑے سوالات کے گھیرے میں ہے۔ ایک طرف سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی میں اچانک تبدیلی نے حیران کیا ہے، تو دوسری جانب اسرائیل کے سخت مؤقف نے بھی خدشات بڑھا دیے ہیں۔
Iran _ US Peace Deal: ہرمز پر کنٹرول، ایران کے منجمد 24 ارب ڈالر کے اثاثے جاری کرنے پر واشنگٹن راضی ،جانئے کیا ہیں امن معاہدے کے 14 اہم نکات؟
قابل ذکر بات یہ ہے کہ لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری تنازع کا ذکر معاہدے کے حتمی مسودے میں شامل نہیں کیا گیا۔ اگرچہ ایران اسے ایک اہم مسئلہ قرار دیتا رہا ہے، تاہم امریکہ اور اسرائیل کا مؤقف ہے کہ لبنان کی صورتحال ایران کے ساتھ جاری مذاکرات سے الگ معاملہ ہے
Middle East Crisis: کویت ایئرپورٹ حملے میں بھارتی شہری ہلاک، متعدد افراد زخمی، بھارت نے کیا سخت تشویش کا اظہار، عوامی تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے کی اپیل
واقعے کے بعد کویت میں بھارتی سفارت خانے نے وہاں مقیم بھارتی شہریوں کے لیے ایڈوائزری بھی جاری کی ہے۔ سفارت خانے نے تمام بھارتیوں کو چوکس رہنے، مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کرنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
Middle East Crisis: حزب اللہ پر اسرائیل نہیں کرے گا حملہ، ایرانی کی دھمکی کے بعد ٹرمپ نے کیا اعلان، آئی ڈی ایف نے بھی بیروت پر روکا حملہ
ادھر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں مختلف محاذوں پر جاری ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایسی کسی بھی خلاف ورزی کے نتائج کی ذمہ داری امریکہ اور اسرائیل پر عائد ہوگی۔
Trump’s Entire Presidency is a Therapy Session: ’ٹرمپ کی پوری مدتِ صدارت ایک تھیراپی سیشن ہے‘، ایران کی نئی تجویز مسترد ہونے پر ایرانی سفارت خانے کا طنز
ایران نے امریکہ کی جانب سے پیش کیے گئے 14 نکاتی منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے ایک نیا مسودہ تجویز واشنگٹن کو بھیج دیا ہے۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے نئے ڈرافٹ کو مکمل طور پر رد کر دیا۔ اس کے بعد بھارت میں ایرانی سفارت خانے نے امریکی صدر کے بیان پر سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے۔





