Bharat Express DD Free Dish

Iran US Ceasefire

ایرانی پاسداران انقلاب اسلامی (IRGC) نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک کنٹینر جہاز پر فائرنگ کر کے کشیدگی میں اضافہ کر دیا ہے۔ اس حملے میں جہاز کے کنٹرول روم کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات پر بھی بحران کے بادل گہرے ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی اپیل پر ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا ہے لیکن آبنائے ہرمز پر ناکہ بندی بدستور برقرار رہے گی، جبکہ امن مذاکرات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز میں ایک بار پھر جنگ جیسے حالات پیدا ہو گئے ہیں۔ امریکی بحریہ نے ایک ایرانی مال بردار جہاز پر حملہ کر کے اسے اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ اس کی تصدیق خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کی ہے۔

ایران نے امریکہ کے ساتھ ہونے والے امن مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔ بتایا جا رہا تھا کہ یہ مذاکرات جلد پاکستان میں ہونے والے تھے۔

رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ 13 اپریل کو پیش آیا جب چینی کارگو جہاز، جس پر بھاری مقدار میں میتھانول لدا ہوا تھا، آبنائے ہرمز سے گزر کر بحیرہ عمان میں داخل ہو گیا۔ حیران کن طور پر یہ وہی ٹینکر ہے جس پر امریکہ برسوں قبل پابندی عائد کر چکا تھا، اس کے باوجود یہ جہاز ایرانی حدود سے گزرتے ہوئے بغیر کسی رکاوٹ کے آگے بڑھ گیا۔

ایرانی حکام کے مطابق، یہ بچے مبینہ طور پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے میں ہلاک ہوئےتھے۔ اس موقع پر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا، "مناب 168، اس طیارے میں میرے ساتھی۔

اطلاعات کے مطابق ایرانی وفد جلد ہی شہباز شریف سے ملاقات کریں گے، جس میں مذاکرات کے ایجنڈے اور خطے کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس سے قبل ایرانی وفد کی ملاقات پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر سے بھی ہو چکی ہے، جس میں علاقائی سلامتی کے امور زیر بحث آئے۔

امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے، جب کہ ان کے ہمراہ سابق صدر  ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی ایلچی اسٹیو اور سینئر مشیر جیرڈ کشنربھی ہوں گے۔ اطلاعات کے مطابق دونوں وفود اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں ملاقات کریں گے جہاں اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران نے دنیا کے اہم سمندری راستوں میں سے ایک آبنائے ہرمز کو بند کر دیا اور اسے دوبارہ کھولنے کے لیے عالمی سطح پر ٹول وصول کرنے کی تجویز پیش کی۔ تاہم یہ تجویز عملی طور پر مشکل اور بین الاقوامی قوانین کے خلاف سمجھی جا رہی ہے۔

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی وزارت خارجہ نے ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب ایران اپنے حملوں کی مکمل ذمہ داری قبول کرے، نقصانات کی تلافی کرے اور سمندری سلامتی کو مکمل طور پر بحال کرے۔