Bharat Express DD Free Dish

The Strait of Hormuz: کیوں ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول وصول نہیں کر سکتا؟

امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران نے دنیا کے اہم سمندری راستوں میں سے ایک آبنائے ہرمز کو بند کر دیا اور اسے دوبارہ کھولنے کے لیے عالمی سطح پر ٹول وصول کرنے کی تجویز پیش کی۔ تاہم یہ تجویز عملی طور پر مشکل اور بین الاقوامی قوانین کے خلاف سمجھی جا رہی ہے۔

اقوام متحدہ کا سمندری قانون (UNCLOS) کے مطابق آبنائے ہرمز علاقائی پانیوں میں “انوسنٹ پیسیج” (Innocent Passage) کے زمرے میں آتا ہے، جس کے تحت اس راستے سے گزرنے والے جہازوں سے کوئی فیس نہیں لی جا سکتی۔

عالمی سطح پر ٹول وصول کرنے کی تجویز

امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران نے دنیا کے اہم سمندری راستوں میں سے ایک آبنائے ہرمز کو بند کر دیا اور اسے دوبارہ کھولنے کے لیے عالمی سطح پر ٹول وصول کرنے کی تجویز پیش کی۔ تاہم یہ تجویز عملی طور پر مشکل اور بین الاقوامی قوانین کے خلاف سمجھی جا رہی ہے۔انوسنٹ پیسیج کا حق غیر ملکی جہازوں کو کسی ساحلی ملک کے علاقائی پانیوں سے گزرنے کی اجازت دیتا ہے، بشرطیکہ یہ آمدورفت اس ملک کے امن، نظم یا سلامتی کے لیے نقصان دہ نہ ہو۔ یہ حق بین الاقوامی قانون کے تحت بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ UNCLOS میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر کوئی ملک اس راستے سے گزرنے والے جہازوں کو اضافی سہولت، جیسے سکیورٹی فراہم کرے، تو وہ اس کے بدلے محدود فیس وصول کر سکتا ہے۔ لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق امریکی فوج نے ایران کی بحریہ کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کے بعد ایران کے پاس سکیورٹی فراہم کرنے کی صلاحیت پر سوال اٹھ رہے ہیں۔

تہران عمان کے ساتھ ایک پروٹوکول پر کام کر رہا ہے

دوسری جانب ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے پہلے اعلان کیا تھا کہ تہران عمان کے ساتھ ایک پروٹوکول پر کام کر رہا ہے، جس کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے لیے ’پرَمٹ‘ لینا لازمی ہوگا۔ تاہم بعد میں عمان کے وزیر ٹرانسپورٹ احمد بن محمد الفتیسی نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز ایک قدرتی سمندری راستہ ہے اور عمان نے اقوام متحدہ کے سمندری قوانین سے متعلق تمام معاہدوں پر دستخط کر رکھے ہیں، اس لیے کسی بھی قسم کی فیس عائد نہیں کی جا سکتی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read