امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی کو مزید بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ قدم پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر اور وزیرِ اعظم شہباز شریف کی درخواست پر اٹھایا گیا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق، ایران کی حکومت اس وقت اندرونی اختلافات کا شکار ہے اور ایک متفقہ تجویز تیار کرنے کے لیے اسے مزید وقت درکار ہے۔
ٹروتھ سوشل پر بیان
ٹرمپ نے اپنے سرکاری ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ پر لکھا کہ ایرانی قیادت منتشر ہے اور مذاکرات کے لیے واضح مؤقف اپنانے میں وقت لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ثالثی کے باعث امریکہ نے حملہ روکنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ تہران اپنے رہنماؤں اور نمائندوں کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ تجویز پیش کر سکے۔
ناکابندی برقرار رکھنے کی ہدایت
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکی فوج کو آبنائے ہرمز کے علاقے میں ناکابندی جاری رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج کو ہر صورتحال کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ جنگ بندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک ایران اپنی تجویز پیش نہیں کرتا اور مذاکرات کسی نتیجے تک نہیں پہنچتے۔
تناؤ بدستور قائم
اگرچہ جنگ بندی نافذ ہے، لیکن دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی کمی برقرار ہے۔ فروری کے آخر میں شروع ہونے والے تنازع کے بعد پاکستان کی ثالثی سے 8 اپریل کو دو ہفتوں کی جنگ بندی نافذ کی گئی تھی، جو 22 اپریل کو ختم ہونا تھی۔ اب اسے مزید بڑھا دیا گیا ہے، لیکن حالات اب بھی نازک ہیں اور کسی بھی وقت کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔
نائب صدر کا دورہ ملتوی
اس دوران امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس کا پاکستان کا دورہ بھی ملتوی کر دیا گیا ہے۔ یہ دورہ ایران کے ساتھ دوسرے مرحلے کی بات چیت کے لیے طے تھا، لیکن تہران کی جانب سے امریکی تجاویز پر کوئی ردِعمل نہ آنے کے باعث اسے مؤخر کر دیا گیا۔
ایران کا سخت ردِعمل
ایران کی جانب سے ٹرمپ کے فیصلے پر سخت ردِعمل سامنے آیا ہے۔ پارلیمنٹ اسپیکر کے مشیر نے کہا کہ جنگ بندی میں توسیع امریکہ کی حکمتِ عملی ہے تاکہ اچانک حملے کے لیے وقت حاصل کیا جا سکے۔ انہوں نے ناکابندی کو بمباری کے برابر قرار دیا اور کہا کہ اس کا فوجی جواب دیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ شکست خوردہ فریق شرائط عائد نہیں کر سکتا۔
امن مذاکرات پر غیر یقینی صورتحال
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں مجوزہ امن مذاکرات کے حوالے سے بھی صورتحال واضح نہیں ہے۔ ایران نے ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ آیا وہ امریکہ کے ساتھ دوبارہ مذاکرات شروع کرے گا یا نہیں۔ ایسے میں جنگ بندی میں توسیع کے باوجود مستقبل کی بات چیت پر سوالات برقرار ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



