نئی دہلی : امریکہ اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ہونے والے امن معاہدے سے متعلق تمام قیاس آرائیوں کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے معاہدے کے اعلان کے بعد اب اس کی اہم شقوں اور شرائط کی تفصیلات بھی منظر عام پر آ گئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق 16 جون کو دونوں ممالک کے درمیان مفاہمتی یادداشت (MoU) پر باضابطہ دستخط کیے جائیں گے۔ اس موقع پر امریکہ کی نمائندگی نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے، جب کہ ایران کی جانب سے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف شریک ہوں گے۔ذرائع کے مطابق معاہدے کے تحت ایران آبنائے ہرمز پر عائد اپنی فوجی رکاوٹیں فوری طور پر ختم کرے گا اور تمام تجارتی جہازوں کے لیے راستہ کھول دے گا۔ اس کے بدلے امریکہ ایرانی بندرگاہوں پر نافذ بحری ناکہ بندی ختم کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ واشنگٹن نے ایران کے منجمد کیے گئے 24 ارب ڈالر کے اثاثے مرحلہ وار جاری کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے، جس میں نقد ادائیگی، مالی سہولیات اور علاقائی شراکت داروں کے تعاون جیسے طریقے شامل ہوں گے۔
معاہدے کے مطابق ایران اپنے پاس موجود اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم کے بڑے ذخائر میں کمی لانے پر بھی رضامند ہو گیا ہے، تاہم اس حوالے سے طریقۂ کار آئندہ 60 دنوں میں طے کیا جائے گا۔ ایران مسلسل اس بات کی تردید کرتا رہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار کر رہا ہے، تاہم عالمی طاقتوں کو اس کے یورینیم افزودگی پروگرام پر تحفظات رہے ہیں۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی مہر اور حکومتی ذرائع کے مطابق مفاہمتی یادداشت کے 14 اہم نکات درج ذیل ہیں:
لبنان اور دیگر محاذوں پر فوری جنگ بندی نافذ کی جائے گی۔
امریکہ ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گا۔
امریکہ 30 دن کے اندر تمام بحری اور معاشی ناکہ بندیاں ختم کرے گا۔
ایران کے اطراف تعینات امریکی فوجی دستوں میں مرحلہ وار کمی کی جائے گی۔
ایران 30 دن کے اندر آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھول دے گا۔
تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات پر عائد امریکی پابندیاں ہٹا دی جائیں گی۔
ایران کو پہنچنے والے نقصانات کے ازالے کے لیے امریکہ اور اس کے اتحادی 300 ارب ڈالر کا تعمیر نو منصوبہ پیش کریں گے۔
60 دن کے اندر جوہری پروگرام، پابندیوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں سمیت تمام معاملات پر حتمی مذاکرات ہوں گے۔
ایران جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے کی یقین دہانی کرائے گا۔
ایران کے منجمد 24 ارب ڈالر کے فنڈز 60 دن کے اندر جاری کیے جائیں گے۔
معاہدے پر عمل درآمد کے لیے ایک نگران نظام تشکیل دیا جائے گا۔
حتمی معاہدے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے قانونی حیثیت دی جائے گی۔
ایران کے نصف فنڈز جاری ہونے تک حتمی مذاکرات شروع نہیں ہوں گے۔
حتمی مذاکرات میں جوہری پروگرام، پابندیوں میں نرمی، اقتصادی بحالی اور میزائل پروگرام جیسے اہم موضوعات شامل ہوں گے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری تنازع کا ذکر معاہدے کے حتمی مسودے میں شامل نہیں کیا گیا۔ اگرچہ ایران اسے ایک اہم مسئلہ قرار دیتا رہا ہے، تاہم امریکہ اور اسرائیل کا مؤقف ہے کہ لبنان کی صورتحال ایران کے ساتھ جاری مذاکرات سے الگ معاملہ ہے اور اس کا حتمی امن معاہدے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔جزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ معاہدہ مکمل طور پر نافذ ہو جاتا ہے تو نہ صرف مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ عالمی تیل منڈی، سمندری تجارت اور خطے کی معیشت پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



