امریکی نائب صدر جے ڈی وینس۔
نئی دہلی: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے گھر کی سکیورٹی میں چوک کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ حالانکہ، فی الحال اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ کوئی شخص ان کی رہائش گاہ کے اندر داخل ہوا تھا یا نہیں۔ واقعے کی تفتیش جاری ہے۔
امریکی میڈیا نے وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اوہایو میں واقع نائب صدر وینس کی رہائش گاہ پر پیش آنے والے واقعے کے بعد ایک شخص کو حراست میں لیا گیا ہے اور تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
واقعے کے وقت وینس فیملی گھر پر نہیں تھی موجود
سی این این نے امریکی سیکریٹ سروس کے حوالے سے بتایا کہ واقعے کے وقت وینس خاندان گھر پر موجود نہیں تھا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حکام کا ماننا ہے کہ حملہ آور نائب صدر وینس کے گھر کے اندر داخل نہیں ہوا تھا۔
امریکی میڈیا اداروں نے واقعے کی تصاویر کیں جاری
امریکی میڈیا اداروں نے واقعے کی تصاویر بھی جاری کی ہیں، جن میں گھر کی کھڑکیوں کو نقصان پہنچا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ حالانکہ، ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اصل میں واقعہ کس نوعیت کا تھا۔
کسی نے کی وینس فیملی کو نشانہ بنانے کی کوشش؟
قانون نافذ کرنے والے ایک افسر نے امریکی میڈیا کو بتایا کہ حکام اس بات کی جانچ کر رہے ہیں کہ کسی شخص نے نائب صدر وینس یا ان کے اہلِ خانہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔
وینس فیملی سرکاری رہائش گاہ میں ہو چکی ہے منتقل
ڈبلیو سی پی او کی رپورٹ کے مطابق، پیر کی صبح وینس کے گھر کی متعدد کھڑکیاں ٹوٹی ہوئی پائی گئیں۔ اگرچہ وینس اور ان کا خاندان جنوری 2025 میں ہی واشنگٹن میں نائب صدر کی سرکاری رہائش گاہ میں منتقل ہو چکا ہے، لیکن سنسناٹی میں واقع ان کی یہ جائیداد اب بھی ان کی ملکیت میں ہے، جہاں وہ اکثر قیام کرتے ہیں۔
واقعے سے متعلق تفصیلی معلومات کا ابھی تک انتظار
امریکی میڈیا کے مطابق، موقع پر موجود ویڈیو فوٹیج میں افسران اندھیرے میں گھر کے اطراف گشت کرتے ہوئے نظر آئے۔ فلیش لائٹس کی روشنی میں کم از کم تین کھڑکیوں میں سوراخ دکھائی دیے۔ حالانکہ، اس واقعے سے متعلق تفصیلی معلومات تاحال سامنے نہیں آ سکی ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


