US-Iran Talks: ’’غلط قدم اٹھایا تو حملے دوبارہ شروع ہوں گے‘‘ ٹرمپ نے ایران کو پھر سے دی وارننگ، آبنائے ہرمز اور جوہری مسئلے پر کشیدگی بدستور برقرار
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہیں ڈیل کا ابتدائی خاکہ بتایا گیا ہے، لیکن حتمی فیصلہ مکمل تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی کیا جائے گا۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں ایران کی پیشکش کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ تہران نے اب تک اپنی کارروائیوں کی ’’کم قیمت‘‘ چکائی ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکہ دوبارہ ایران پر حملہ کر سکتا ہے، تو انہوں نے براہ راست جواب دینے سے گریز کیا، تاہم اشارہ دیا کہ یہ آپشن اب بھی میز پر موجود ہے۔
Iranian delegation exits Islamabad: پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو دھچکا، اسلام آباد میں سفارتی کوشش ناکام، ایرانی وفد کی روانگی سے امریکہ-ایران مذاکرات کا دوسرا دور تعطل کا شکار
ذرائع کے مطابق ایران نے امریکی وفد سے ملاقات سے بھی انکار کر دیا، جس میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل تھے۔ یہ وفد مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے اسلام آباد پہنچنے والا تھا، لیکن ایران کے انکار کے بعد یہ ملاقات ممکن نہ ہو سکی۔
US–Iran Talks: امریکہ اور ایران کے درمیان کیوں نہیں ہوپارہا ہے معاہدہ؟ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بتائی بڑی وجہ
نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح طور پر کہا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اعتماد کی شدید کمی ایک عارضی جنگ بندی کو مستقل امن معاہدے میں تبدیل کرنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ دونوں فریق بات چیت جاری رکھنے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں، لیکن برسوں پر محیط بداعتمادی کو ایک ہی رات میں ختم کرنا ممکن نہیں۔





