Bharat Express DD Free Dish

Diplomatic Deadlock

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہیں ڈیل کا ابتدائی خاکہ بتایا گیا ہے، لیکن حتمی فیصلہ مکمل تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی کیا جائے گا۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں ایران کی پیشکش کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ تہران نے اب تک اپنی کارروائیوں کی ’’کم قیمت‘‘ چکائی ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکہ دوبارہ ایران پر حملہ کر سکتا ہے، تو انہوں نے براہ راست جواب دینے سے گریز کیا، تاہم اشارہ دیا کہ یہ آپشن اب بھی میز پر موجود ہے۔

ذرائع کے مطابق ایران نے امریکی وفد سے ملاقات سے بھی انکار کر دیا، جس میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل تھے۔ یہ وفد مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے اسلام آباد پہنچنے والا تھا، لیکن ایران کے انکار کے بعد یہ ملاقات ممکن نہ ہو سکی۔

نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح طور پر کہا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اعتماد کی شدید کمی ایک عارضی جنگ بندی کو مستقل امن معاہدے میں تبدیل کرنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ دونوں فریق بات چیت جاری رکھنے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں، لیکن برسوں پر محیط بداعتمادی کو ایک ہی رات میں ختم کرنا ممکن نہیں۔