US-Iran Conflict: ’’دشمن کو اپنے دستخط کی پاسداری کرنی ہوگی‘‘ ایران کے ساتھ امن معاہدے پر امریکہ کو قائم رکھنے کے لیے دباؤ ڈالنا ضروری: صدر مسعود پزشکیان
دوسری جانب ایران کے قائم مقام وزیر دفاع سید ماجد ابن الرضا نے کہا کہ تہران ہر دشمن کی دھمکی کو حقیقی اور سنجیدہ سمجھتا ہے اور اسے محض نفسیاتی جنگ قرار نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نہ تو کسی ممکنہ حملے سے حیران ہوگا اور نہ ہی غفلت برتے گا، بلکہ ہر دھمکی کو اپنی دفاعی تیاری، مزاحمتی صلاحیت اور عسکری طاقت میں اضافے کا موقع سمجھتا ہے۔
US-Iran Agreement: امریکی صدر نے ایران کے ساتھ معاہدے کو بتایا اہم، کہا-’’معاہدے سے آبنائے ہرمز میں کشیدگی ہوگی کم اور عالمی توانائی سپلائی کو ملے گا استحکام‘‘
ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا مذاکرات کا بنیادی مقصد ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ موجودہ جوہری مواد سے متعلق خدشات اپنی جگہ، لیکن اصل تشویش یہ ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں۔
US-Iran Agreement: امریکہ-ایران امن معاہدے کا وزیراعظم مودی نے کیا خیرمقدم، کہا-’’معاہدے پرعمل درآمد سے عالمی تجارت اور سمندری راستوں پر نقل و حرکت ہوگی بحال
وزیراعظم نے کہا کہ اس تنازع کی وجہ سے عالمی معیشت کو شدید دھچکا پہنچا اور کئی ممالک میں انسانی جانوں کا نقصان بھی ہوا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی نئی سمجھ بوجھ ایک مثبت پیش رفت ہے، جس سے خطے میں معمول کے حالات بحال ہونے کی توقع ہے۔
US-Iran Peace Talks: امریکہ-ایران جنگ بندی معاہدہ اگلے 24 گھنٹوں میں طے پانے کا امکان، پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کا بڑا دعویٰ
پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق معاہدے کے بعد الیکٹرانک دستخط اور پھر تکنیکی سطح کے مذاکرات ہوں گے۔ ایران کے جوہری پروگرام پر بھی پیش رفت کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں شہباز شریف نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور پاکستان معاہدے کے الیکٹرانک دستخط کے لیے بھی تیاری کر رہا ہے۔
Russia-Ukraine peace agreement: مار-اے-لاگو میں ٹرمپ–زیلینسکی ملاقات، روس–یوکرین امن معاہدے پر 90 فیصد اتفاق
فلوریڈا کے مار-اے-لاگو میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور یوکرینی صدر زیلینسکی کی ملاقات کے دوران روس–یوکرین امن معاہدے پر 90 فیصد اتفاق رائے قائم ہوا۔
Pakistan, Afghanistan agree to 48-hour ceasefire: سرحدی جھڑپوں میں درجنوں ہلاکتوں کے بعد پاکستان اور افغانستان میں 48 گھنٹے کی عارضی جنگ بندی پر اتفاق
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ’’پاکستان اور افغانستان کے تعلقات عملاً منقطع ہو چکے ہیں۔ فی الحال کوئی باضابطہ رابطہ نہیں ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ’’کسی بھی وقت دوبارہ تصادم بھڑک سکتا ہے‘‘ جو اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات اس وقت نہایت نازک مرحلے میں ہیں۔





