Bharat Express DD Free Dish

US-Iran Ceasefire Talks: امریکہ اورایران کے درمیان 16 اپریل کو ہوسکتی ہے دوسری میٹنگ، ترکیہ یا جنیوا میں بات چیت ممکن

امریکہ اورایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لئے ایک بار پھر راست بات چیت ہوسکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ کے افسر 21 اپریل کو جنگ بندی ختم ہونے سے پہلے ایرانی افسران کے ساتھ ممکنہ طور پر دوسری میٹنگ کے ذریعہ تبادلہ خیال کرسکتے ہیں۔

امریکہ اور ایران کے درمیان دوسرے دور کی میٹنگ ہونے کا امکان ہے۔

امریکہ اورایران کے درمیان کشیدگی کم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ اس درمیان خبرہے کہ ایک بارپھردونوں ممالک کے درمیان میں سے بات ہوسکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، واشنگٹن  اور تہران کے درمیان 16 اپریل کو دوسری ملاقات ہوسکتی ہے۔ حالانکہ یہ میٹنگ کہاں ہوگی، اس کے بارے میں جگہ ابھی فائنل نہیں ہوئی ہے، لیکن خبرہے کہ ترکیہ یا جنیوا میں دونوں ملکوں کے درمیان ملاقات ہوسکتی ہے۔ تاکہ جنگ بندی کے لئے راستہ نکالا جائے۔

رپورٹ کے مطابق، امریکی افسران واشنگٹن اورتہران کے درمیان جنگ بندی ختم ہونے سے پہلے ایرانی افسران کے ساتھ ایک اورمیٹنگ منعقد کرنے کے امکان پرغورکررہے ہیں۔ سی این این کوایک ذرائع نے کہا کہ ممکنہ ملاقاتوں کے لئے تاریخ اورمقام طے کرنے کے لئے بات چیت چل رہی ہے۔ یہ فیصلہ آنے والے دنوں میں ایران اورعلاقائی ثالثوں کے ساتھ چل رہی مذاکرات کی رفتارپرمنحصرکرے گا۔ ایک افسرنے اسے ابتدائی سطح کی بات چیت بتاتے ہوئے کہا کہ ضرورت پڑنے پرفوراً بیٹھنے کے لئے تیاررہنا ہو گا۔

اسلام آباد میں ہوئی تھی لمبی میٹنگ

آپ کو بتا دیں کہ 11 اپریل کو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہوئی لمبی میٹنگ کو کئی ہفتوں کی سفارتی کوششوں کا نتیجہ مانا جا رہا ہے۔ اس مذاکرات میں پاکستان، ترکی، مصر اور عمان جیسے ممالک کی ثالثی نے اہم کردارنبھایا۔ ان کوششوں نے دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کوآگے بڑھانے کا راستہ کھولا ہے۔

بات چیت کا دوسرا دورممکن

ایک علاقائی ذرائع نے سی این این کوبتایا کہ بات چیت کا ایک اوردورممکن ہے اورترکیہ مبینہ طورپردونوں فریقوں کے درمیان اختلافات کو دورکرنے کے لیے کام کررہا ہے۔ بات چیت کے لئے اسلام آباد کوحتمیی شکل دیئے جانے سے پہلے، جنیوا، ویانا اوراستنبول سمیت کئی زبانوں پرغورکیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق، جنیوا اوراسلام آباد کو مذاکرات کے دوسرے دور کے لئے ممکنہ مقامات کے طورپر پھر سے بات چیت کی جا رہی ہے۔

امریکی انتظامیہ کو امید

ذرائع نے سی این این کوبتایا کہ امریکی انتظامیہ کوابھی بھی امید ہے کہ سفارتی سطح پرکوئی کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ رفتارکی بنیاد پر، دونوں فریق مذاکرات کے لئے اضافی وقت دینے کے لئے جنگ بندی کا دائرہ بڑھانے پرغورکرسکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، اگربات چیت میں مثبت رفتارہوتی ہے تو دونوں ممالک جنگ بندی کی مدت کو بڑھانے پربھی غورکرسکتے ہیں۔ اس سے مذاکرات کووقت مل سکے گا اورکسی ٹھوس معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کومضبوطی ملے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

اس درمیان، ایک امریکی افسرنے تصدیق کی کہ واشنگٹن اورتہران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ سی این این کے مطابق، افسرنے کہا، ‘امریکہ اورایران کے درمیان مسلسل بات چیت جاری ہے اورسمجھوتے کے فروغ کی کوششوں میں رفتارآئی ہے’۔ وہیں امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے پیرکے روزانتظامیہ سے رابطہ کیا اورتہران سمجھوتہ کرنے کے لئے بے حد پُرجوش ہے۔

 بھارت ایکسپریس اردو-



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read