تہران: ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے پیر کے روز کہا کہ ایران موجودہ علاقائی کشیدگی سے نمٹنے کے لیے مختلف راستوں پر غور کر رہا ہے جن میں ’وقار‘ اور ’اختیار‘ کے ساتھ مذاکرات بھی شامل ہیں۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی (ISNA) کے مطابق انہوں نے زور دیا کہ میدان جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو سفارت کاری کے ذریعے مزید مضبوط بنایا جانا چاہیے۔ صدر پزشکیان نے یہ بات ایران کی فرج پولیس فورس کے سربراہ اور سینئر کمانڈروں کے ساتھ ملاقات کے دوران کہی، جہاں انہیں حالیہ ’مسلط کردہ جنگ‘ کے دوران فورس کی کارکردگی سے متعلق رپورٹ پیش کی گئی۔ انہوں نے ملک کے داخلی سلامتی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فرج فورس کے ڈھانچے، آلات اور کردار کو مزید مؤثر بنایا جانا چاہیے تاکہ داخلی امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔
وقار کے ساتھ مذاکرات ایران کی ترجیح
مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران کے سامنے اس وقت کئی راستے موجود ہیں۔ ان کے مطابق یا تو ایران وقار، طاقت اور قومی مفادات کے تحفظ کے ساتھ مذاکرات کرے اور ایرانی عوام کے حقوق حاصل کرے، یا پھر ’نہ جنگ نہ امن‘ کی کیفیت برقرار رہے، یا تصادم اور جنگ کا راستہ اختیار کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی ترجیح ایسی سفارت کاری ہے جو عسکری طاقت اور قومی مفادات کی پشت پناہی سے آگے بڑھے۔ ان کے مطابق مسلح افواج نے میدان جنگ میں جو کامیابی حاصل کی ہے، اسے سفارتی میدان میں بھی مکمل کیا جانا چاہیے۔
جنگ کا خاتمہ اور ناکہ بندی ختم کی جائے
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ایران کی تجاویز نہ صرف قومی مفادات بلکہ علاقائی اور عالمی استحکام کے لیے بھی اہم ہیں۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق انہوں نے کہا کہ ایران نے مذاکراتی متن میں صرف اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کیا ہے اور تمام تجاویز ’معقول اور فراخدلانہ‘ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران خود کو خطے کی ایک ذمہ دار طاقت سمجھتا ہے اور وہ کسی پر دباؤ ڈالنے کی پالیسی نہیں اپناتا۔ اسماعیل بقائی نے مطالبہ کیا کہ امریکہ جنگ ختم کرے، ناکہ بندی ہٹائے، بحری قزاقی جیسے اقدامات بند کرے اور امریکی دباؤ کے تحت منجمد کیے گئے ایرانی اثاثے بحال کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری گزرگاہ اور خطے خصوصاً لبنان میں سلامتی کا قیام بھی ایران کے اہم مطالبات میں شامل ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو ایران کے ردعمل کو ’مکمل طور پر ناقابل قبول‘ قرار دیتے ہوئے سخت ناراضگی ظاہر کی۔ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ انہیں ایران کے نمائندوں کی جانب سے موصول ہونے والا جواب پسند نہیں آیا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران نے خطے میں کشیدگی کم کرنے سے متعلق امریکی تجویز پر اپنا ردعمل اسلام آباد کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچایا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


