Bharat Express DD Free Dish

Iran President

ایرانی صدرمسعود پزشکیان نے دعویٰ کیا کہ ان کے مخالفین نے شام کی طرز پر48 گھنٹے کے اندر ایران پر قبضہ کرنے کا مکمل منصوبہ بنایا تھا۔ تاہم ایران نے اپنی طاقت اور صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ پزشکیان کے مطابق موجودہ حالات نے ثابت کر دیا ہے کہ ایران کواتنی آسانی سے کمزوریا غیرمستحکم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنے راستے پر مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھتا رہے گا۔

دوسری جانب ایران کے قائم مقام وزیر دفاع سید ماجد ابن الرضا نے کہا کہ تہران ہر دشمن کی دھمکی کو حقیقی اور سنجیدہ سمجھتا ہے اور اسے محض نفسیاتی جنگ قرار نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نہ تو کسی ممکنہ حملے سے حیران ہوگا اور نہ ہی غفلت برتے گا، بلکہ ہر دھمکی کو اپنی دفاعی تیاری، مزاحمتی صلاحیت اور عسکری طاقت میں اضافے کا موقع سمجھتا ہے۔

حالیہ دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے تازہ حملوں کے بعد مغربی ایشیا میں جنگ بندی کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش کے پس منظر میں دونوں لیڈروں کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی۔ اس دوران بھارت نے خطے میں امن، استحکام اور کشیدگی میں کمی کی ضرورت پر زور دیا۔

تاہم یہ اب بھی واضح نہیں ہے کہ اس معاہدے پر باضابطہ دستخط کے ساتھ ہی حتمی معاہدے کے لیے مجوزہ 60 روزہ تکنیکی مذاکرات کی مدت شروع ہو گئی ہے یا نہیں۔ اس کے علاوہ یہ سوال بھی برقرار ہے کہ ورسائے میں ٹرمپ کے ہاتھ سے کیے گئے دستخط اتوار کو دی گئی ان کی ڈیجیٹل منظوری سے کس طرح مختلف ہیں۔

مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران کے سامنے اس وقت کئی راستے موجود ہیں۔ ان کے مطابق یا تو ایران وقار، طاقت اور قومی مفادات کے تحفظ کے ساتھ مذاکرات کرے اور ایرانی عوام کے حقوق حاصل کرے، یا پھر ’نہ جنگ نہ امن‘ کی کیفیت برقرار رہے، یا تصادم اور جنگ کا راستہ اختیار کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی ترجیح ایسی سفارت کاری ہے جو عسکری طاقت اور قومی مفادات کی پشت پناہی سے آگے بڑھے۔

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ان کا ملک امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے کو تیار ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کے حقوق اور مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کو آٹھ ہفتے گزر چکے ہیں، جس کے دوران ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور تنازع لبنان تک پھیل چکا ہے، جہاں اسرائیلی حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ اگرچہ ایک نازک جنگ بندی فی الحال قائم ہے، تاہم اس کی مدت ختم ہونے کے قریب ہے اور کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات اب بھی غیر یقینی ہیں۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری فضائی حملوں کو دو ہفتوں کے لیے معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی صدر کے مطابق، یہ جنگ بندی دو طرفہ ہے اور اس کا مقصد مستقل امن کے لیے مذاکرات کی راہ ہموار کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے پیش کردہ 10 نکاتی تجویز کو ایک قابل عمل بنیاد سمجھا جا رہا ہے، جس پر مزید بات چیت کی جا سکتی ہے۔

مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اب تک ایک کروڑ چالیس لاکھ سے زائد ایرانی عوام نے ملک کے دفاع کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کی تیاری ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی ایران کے لیے قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔

صدر مسعود پیزشکیان نے عید الفطر اور نوروز کے موقع پر اتحاد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ایران خطے میں بدامنی نہیں چاہتا، دشمن مسلمانوں میں اختلاف ڈال رہا ہے۔ صدر پیزشکیان نے کہا کہ ایران دیگر اسلامی ممالک کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا کیونکہ وہ سب ’’بھائی‘‘ ہیں۔ ان کے مطابق مسلمانوں کے درمیان اختلافات ایک دشمن کی سازش ہے، جو انہیں تقسیم کرنا چاہتا ہے۔