بھارت نے مغربی ایشیا میں پائیدار امن و استحکام اور جہاز رانی و تجارتی سرگرمیوں کی بلا رکاوٹ آزادی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ یہ بات منگل کو وزیر اعظم نریندر مودی اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو کے دوران سامنے آئی۔
وزیر اعظم مودی کو آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کی دعوت
یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا جب گزشتہ چند دنوں کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان تازہ حملوں کے بعد مغربی ایشیا میں جنگ بندی کے مستقبل کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ یہ گفتگو اس دعوت کے چند روز بعد ہوئی جس میں صدر پزشکیان نے وزیر اعظم مودی کو ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کی دعوت دی تھی، جن کی تقریبات اس ہفتے شروع ہو رہی ہیں۔
وزیر اعظم مودی کا سوشل میڈیا پر جاری بیان
وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ انہوں نے جاری مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت کا خیر مقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ مسلسل سفارتی کوششیں خطے میں دیرپا امن کے قیام کا باعث بنیں گی۔ انہوں نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو بھارت اور پوری دنیا کے لیے نہایت اہم قرار دیا۔بھارتی حکومت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم مودی نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ مغربی ایشیا میں پائیدار امن و استحکام کے لیے مسلسل کوششیں ضروری ہیں اور جہاز رانی و تجارت کی آزادی ہر صورت برقرار رہنی چاہیے۔ انہوں نے ایران اور امریکہ کے درمیان حاصل ہونے والی مفاہمت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ تمام مسائل کا حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے، جو بھارت کا مستقل مؤقف رہا ہے۔حالیہ مہینوں میں آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث بھارت کو تیل، گیس اور کھاد کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ تاہم تہران کی جانب سے اس اہم آبی گزرگاہ پر پابندیوں میں نرمی کے بعد ان اشیا سے لدے بحری جہازوں کی آمدورفت بحال ہوئی، جس سے بھارت کو بڑی سہولت ملی۔ آبنائے ہرمز کے ذریعے بھارت کی تقریباً نصف تیل درآمدات ہوتی ہیں۔
پزشکیان نے پی ایم مودی کو مغربی ایشیا کی تازہ صورتحال سے بھی آگاہ کیا
گفتگو کے دوران صدر مسعود پزشکیان نے وزیر اعظم مودی کو مغربی ایشیا کی تازہ صورتحال اور آئندہ کے ممکنہ لائحہ عمل سے بھی آگاہ کیا، تاہم بھارتی حکومت نے اس حوالے سے مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔اگرچہ بھارت نے ابھی تک علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں اپنی باضابطہ شرکت کا اعلان نہیں کیا، تاہم ذرائع کے مطابق وزیر مملکت برائے خارجہ امور پبیترا مارگریٹا اور بہار کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) سید عطا حسنین بھارت کی نمائندگی کر سکتے ہیں۔ یہ تقریب چھ روز تک ایران کے تین مختلف شہروں میں جاری رہے گی اور 4 جولائی کو تہران میں مرکزی تقریب منعقد ہوگی۔ واضح رہے کہ 86 سالہ آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو تہران میں اپنے دفتر کے احاطے پر ہونے والے فضائی حملے میں شہید ہوئے تھے۔ یہ حملہ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر کی گئی کارروائیوں کے دوران ہوا تھا۔ بھارت نے اس واقعے پر ابتدائی طور پر خاموشی اختیار کی تھی، تاہم بعد میں خارجہ سکریٹری وکرم مسری نے ایرانی سفارت خانے جا کر حکومتِ ہند کی جانب سے تعزیتی کتاب میں اپنے تاثرات درج کیے تھے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


