تہران: مسعود پزشکیان نے امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی معاہدے کو قومی اتحاد اور عوامی عزم کی عکاسی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پیش رفت ملک کی قیادت اور عوام کی مشترکہ جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ ایرانی صدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر جاری بیان میں کہا کہ یہ جنگ بندی دراصل سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی قربانیوں کا ثمر ہے، جو 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں ہلاک ہو گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ ایرانی عوام کی بھرپور شرکت اور قومی یکجہتی کے باعث ممکن ہوا۔ ان کے مطابق ’’یہ جنگ بندی ہمارے عظیم شہید رہنما کے خون کا پھل ہے اور اس میں عوام کی مکمل شمولیت شامل ہے۔‘‘ صدر پزشکیان نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ ایران مستقبل میں بھی سفارت کاری، دفاع، عوامی خدمات اور دیگر شعبوں میں متحد رہے گا۔
امریکا-ایران جنگ بندی اور شرائط
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری فضائی حملوں کو دو ہفتوں کے لیے معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی صدر کے مطابق، یہ جنگ بندی دو طرفہ ہے اور اس کا مقصد مستقل امن کے لیے مذاکرات کی راہ ہموار کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے پیش کردہ 10 نکاتی تجویز کو ایک قابل عمل بنیاد سمجھا جا رہا ہے، جس پر مزید بات چیت کی جا سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز کی اہم شرط
ٹرمپ نے واضح کیا کہ جنگ بندی کی ایک اہم شرط آبنائے ہرمزکو فوری، مکمل اور محفوظ طور پر کھولنا ہے تاکہ عالمی جہاز رانی متاثر نہ ہو۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ اپنے زیادہ تر فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے اور اب توجہ طویل مدتی امن معاہدے پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے اپنے بیان میں یہ بھی انکشاف کیا کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فوجی قیادت نے ایران پر ممکنہ مزید حملوں کو روکنے کی درخواست کی تھی، جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق، ایران اور امریکہ کے درمیان یہ جنگ بندی مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ تاہم خطے کی پیچیدہ صورتحال اور مختلف عالمی طاقتوں کے مفادات کے باعث آئندہ دنوں میں اس معاہدے کی کامیابی کا دارومدار عملی اقدامات اور مسلسل سفارتی کوششوں پر ہوگا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

