ایرانی صدر کے دفتر کی ویب سائٹ کے مطابق، بدھ (مقامی وقت) کو فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران پزشکیان نے امریکہ پر گہرا اعتماد ظاہر نہیں کیا۔انہوں نے حالیہ دشمنانہ کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دو طرفہ مذاکرات کے دوران ایران پر دو حملے کیے گئے، جسے انہوں نے ’ایران کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے‘ کے مترادف قرار دیا۔
امریکہ اور ایران جنگ بندی کے لیے کوشاں؟
خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق، دونوں لیڈروں کے درمیان یہ بات چیت ایسے وقت ہوئی جب ایکسیوس نے رپورٹ دی کہ امریکہ اور ایران جنگ بندی کے لیے ایک صفحے پر مشتمل مفاہمتی مسودے پر کام کر رہے ہیں۔
امریکہ پابندیاں ہٹانے پر رضامند ہوگا
رپورٹ کے مطابق، ممکنہ معاہدے کے تحت ایران جوہری افزودگی روکنے کا وعدہ کرے گا، جبکہ امریکہ پابندیاں ہٹانے پر رضامند ہوگا۔ اس ڈیل میں آبنائے ہرمز سے ٹرانزٹ پر عائد پابندیاں بھی ختم کرنے کی بات شامل ہے۔ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان 40 دن تک جاری رہنے والی لڑائی کے بعد 8 اپریل کو دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی ہوئی تھی۔ یہ تنازع 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد شروع ہوا تھا۔جنگ بندی کے بعد ایران اور امریکہ نے 11 اور 12 اپریل کو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امن مذاکرات کیے، تاہم ان مذاکرات سے کوئی حتمی نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا۔
جنگ بندی کے لیے کئی مجوزہ منصوبے ایک دوسرے کے ساتھ شیئر
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران دونوں فریقوں نے جنگ ختم کرنے کے لیے کئی مجوزہ منصوبے ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کیے ہیں، جن میں تازہ ترین منصوبے کا ایران فی الحال جائزہ لے رہا ہے۔ اس کے علاوہ ایران نے واضح کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کسی نئے تحریری پیغام کا تبادلہ نہیں ہوا ہے۔نیم سرکاری فارس نیوز ایجنسی نے حالیہ میڈیا رپورٹس کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد زمینی حقائق پیش کرنے کے بجائے عالمی مارکیٹ کو متاثر کرنا اور تیل کی قیمتیں کم کرنا تھا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


