Bharat Express DD Free Dish

ceasefire agreement

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ان کا ملک امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے کو تیار ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کے حقوق اور مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔

پاکستان کا دوغلا پن ایک بار پھر بے نقاب ہو گئی ہے۔ تمام کھلاڑی میچ کے بعد اپنے اپنے گھر واپس جانے کی تیاری کر رہے تھے، اس وقت پاکستانی فضائیہ نے ان پر بم گرا دیا جس کے نتیجے میں آٹھ کھلاڑی ہلاک ہو گئے۔

بتایا گیا ہے کہ کئی ممالک نے اس میں اہم کردار ادا کیا جس کی وجہ سے پانچ دن کی خونریز جنگ کے بعد جنگ رک گئی ہے۔ کمبوڈیا کے وزیر اعظم نے اب اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ اس ایک اعلان سے دونوں ممالک کے عام شہریوں کی زندگیاں دوبارہ پٹری پر آ جائیں گی۔

صدر ٹرمپ نے جنگ بندی کے اعلان کو اپنی سفارتی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ یہ جنگ، جسے انہوں نے "12 روزہ جنگ" کا نام دیا، مشرق وسطیٰ کو تباہ کر سکتی تھی۔ انہوں نے قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی کی ثالثی کی بھی تعریف کی۔

قطر نے اس جنگ بندی کے مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کیا۔ رائٹرز کے مطابق، قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے ایرانی حکام سے ٹیلی فون پر بات چیت کی اور امریکی تجویز کردہ جنگ بندی پر ایران کی رضامندی حاصل کی۔

بھارت کی اس پالیسی کی جڑیں اس کے وسیع تر سفارتی اور فوجی اہداف میں پیوست ہیں۔ بھارت جنگ بندی کو ایک ایسے آلے کے طور پر دیکھتا ہے جو ایل او سی پر کشیدگی کو کم کرتا ہے، جس سے وہ اپنی توجہ اندرونی ترقی، اقتصادی ترقی، اور دیگر عالمی چیلنجز پر مرکوز کر سکتا ہے۔

دہلی کانگریس ہیڈکوارٹر کے باہر ہورڈنگ لگا دی گئی ہے۔ جس پر لکھا ہے کہ 'اندرا گاندھی ہونا آسان نہیں ہے' اور 'انڈیا کو اندرا کی کمی محسوس ہورہی ہے'۔ اس ہورڈنگ میں اندرا گاندھی کی تصویر کے ساتھ کانگریس کے دو لیڈروں کی تصویریں بھی ہیں۔

محمد ادیب نے کہا کہ پڑوسی ملک کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ دہشت گردی کو فروغ دینا خطے میں قیام امن کے لئے سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کسی کا دشمن نہیں ہو سکتا لیکن اگر بھارت کے امن و امان کو چیلنج کیا جائے گا تو وہ خاموش بھی نہیں بیٹھ سکتا ہے ۔

نیتن یاہو نے اپنے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ کے ٹھوس مؤقف کی وجہ سے آج ہمارے تین یرغمالیوں کو رہا کیا گیا حالانکہ حماس کی جانب سے پہلے ان کی رہائی سے انکار کردیا گیا تھا۔

ادھر بین الاقوامی تنظیم صلیب احمر نے آج جمعے کے روز بتایا ہے کہ وہ غزہ میں یرغمالیوں کی حالت کے حوالے سے "نہایت تشویش" رکھتی ہے۔ صلیب احمر وہ تنظیم ہے جو اسرائیلی اور فلسطینی قیدیوں کے تبادلے کی کارروائی میں سہولت کار کا کردار ادا کر رہی ہے۔