Bharat Express DD Free Dish

Ceasefire has begun: جنگ ختم،ایران –اسرائیل کے درمیان جنگ بندی نافذ،دونوں ممالک میں معمول پر لوٹنے لگےحالات،عوام نے لی راحت کی سانس

صدر ٹرمپ نے جنگ بندی کے اعلان کو اپنی سفارتی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ یہ جنگ، جسے انہوں نے “12 روزہ جنگ” کا نام دیا، مشرق وسطیٰ کو تباہ کر سکتی تھی۔ انہوں نے قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی کی ثالثی کی بھی تعریف کی۔

ایران کی سرکاری ٹیلی ویژن نے 24 جون 2025 کو اعلان کیا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا آغاز ہو گیا ہے۔ یہ اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا کہ دونوں ممالک نے ایک “مکمل اور حتمی” جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے، جو 12 دن کی جنگ کو ختم کرے گی۔ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن  کے مطابق  اسرائیل کے ساتھ اس کی جنگ میں جنگ بندی شروع ہو گئی ہے، حالانکہ اسرائیل نے عوام کو ایران سے داغے گئے ایک نئے میزائل حملے کے بارے میں خبردار کیاہے۔

ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے جنگ بندی کا اعلان اسکرین پر ایک گرافک کے ذریعے کیا، اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے جنگ بندی اعلان میں مقرر کردہ ڈیڈ لائن کے بعد آنے والے نئے میزائل حملے کو فوری طور پر تسلیم نہیں کیا۔حالانکہ پہلے ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے IRINN نے یہ بھی دعویٰ کیا تھاکہ یہ جنگ بندی اسرائیل پر “مسلم” کی گئی ہے، جو ایران کے قطر میں امریکی فوجی اڈے پر حملے کے بعد ہوئی۔

اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر کہا کہ فی الحال کوئی باضابطہ جنگ بندی کا معاہدہ نہیں ہوا، لیکن اگر اسرائیل تہران کے وقت کے مطابق صبح 4 بجے تک اپنی “غیر قانونی جارحیت” بند کر دے تو ایران اپنے جوابی حملے جاری نہیں رکھے گا۔ اس کے باوجود، اسرائیل نے منگل کی صبح ایران سے داغے گئے میزائلوں کی اطلاع دی، جن میں سے کچھ نے بیئر شیبا شہر میں رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچایا، جس کے نتیجے میں کم از کم 6 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے جنگ بندی سے قبل اسرائیل پر چار حملوں کی لہریں شروع کیں، جو ان کے مطابق “کامیاب” رہیں۔

حالانکہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر یہ بیان دیا ہے کہ ایران اسرائیل کے مابین جنگ بندی کا معاہد ہ نافذ ہوچکا ہے، کوئی بھی فریق اس کی خلاف ورزی نہ کرے۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا ٹروتھ کے اکاونٹ پر لکھا کہ ایران اسرائیل کے بیچ سیز فائر معاہدہ نافذالعمل ہے۔اس کی مخالفت نہ کریں۔

ادھر امریکی صدر ٹرمپ نے جنگ بندی کے اعلان کو اپنی سفارتی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ یہ جنگ، جسے انہوں نے “12 روزہ جنگ” کا نام دیا، مشرق وسطیٰ کو تباہ کر سکتی تھی۔ انہوں نے قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی کی ثالثی کی بھی تعریف کی، جنہوں نے ایران کو جنگ بندی کے لیے قائل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم، اسرائیلی فوج نے منگل کی صبح تک میزائل حملوں کی وارننگ جاری رکھی، اور تہران میں بھی رات بھر شدید بمباری کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ یہ متضاد اطلاعات جنگ بندی کی پائیداری پر سوالات اٹھاتی ہیں۔البتہ ایران کی سرکاری ٹیلی ویژن نے جنگ بندی کے آغاز کا اعلان کردیا ہے۔حالانکہ اسرائیل نے اپنی عوام محتاط رہتے ہوئے شیلٹر سے نکلنے کو کہہ دیا ہے،الرٹ ختم کردئے گئے ہیں۔حالات معمول کے مطابق لوٹ رہے ہیں۔

بھارت ایکسپریس



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read