ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ فی الوقت اسرائیل کے ساتھ کسی جنگ بندی (سیز فائر) کا کوئی معاہدہ نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ “اب تک جنگ بندی یا فوجی کارروائیوں کے خاتمے پر کوئی معاہدہ نہیں ہے۔” تاہم، انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر اسرائیل 4 بجے صبح تہران کے وقت تک ایرانی عوام کے خلاف اپنی “غیر قانونی جارحیت” بند کر دیتا ہے تو ایران کا اپنا جواب جاری رکھنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ اس بیان سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان مکمل اور جامع جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے، جو 24 گھنٹوں میں مرحلہ وار نافذ ہو گی۔ تاہم، ایران اور اسرائیل دونوں نے اس معاہدے کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روز سے جاری تنازع میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر فضائی حملے کیے۔ اسرائیل نے 13 جون کو ایران کے جوہری اور فوجی تنصیبات پر حملوں کا آغاز کیا تھا، جسے اسرائیلی حکام نے ایران کے مبینہ جوہری ہتھیاروں کے خطرے کے پیش نظر ضروری قرار دیا۔ جواباً ایران نے اسرائیل کے شہروں اور فوجی اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جس سے دونوں جانب ہلاکتوں اور تباہی کی اطلاعات ہیں۔ ایران نے پیر کے روز قطر میں امریکی فوجی اڈے العدید پر بھی میزائل داغے، جسے وہ امریکی حملوں کے جواب میں جواز بنا رہا ہے۔ قطر نے اس حملے کی مذمت کی اور کہا کہ تمام میزائل روک لیے گئے، جبکہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ ایران اور اسرائیل نے “تقریباً بیک وقت” ان سے رابطہ کیا اور امن کی خواہش ظاہر کی۔ انہوں نے اسے “12 روزہ جنگ” کا اختتام قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ برسوں تک جاری رہ سکتی تھی اور مشرق وسطیٰ کو تباہ کر دیتی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جنگ بندی کا آغاز ایران رات 12 بجے ای ٹی سے کرے گا، اور اسرائیل 12 گھنٹے بعد اس کی پیروی کرے گا، جس کے بعد 24 گھنٹوں میں جنگ کا باضابطہ خاتمہ ہو جائے گا۔ تاہم، اسرائیلی فوج نے جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی تہران میں دو علاقوں کے لیے تخلیہ کے انتباہ جاری کیے، اور ایرانی میزائلوں کے اسرائیل کی طرف داغے جانے کی اطلاعات ہیں، جو ٹرمپ کے دعوے پر سوالات اٹھاتی ہیں۔
قطر نے اس جنگ بندی کے مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کیا۔ رائٹرز کے مطابق، قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے ایرانی حکام سے ٹیلی فون پر بات چیت کی اور امریکی تجویز کردہ جنگ بندی پر ایران کی رضامندی حاصل کی۔ ٹرمپ نے قطر کے امیر سے بات کی اور ان سے کہا کہ اسرائیل جنگ بندی کے لیے تیار ہے، اور قطر ایران کو قائل کرے۔ تاہم، ایرانی وزیر خارجہ کے تازہ بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ایران اب بھی اس معاہدے پر مکمل طور پر متفق نہیں ہے اور اپنی فوجی کارروائیوں کے حتمی فیصلے کو حالات کے مطابق کرے گا۔ عالمی برادری اس تنازع کے خاتمے کے لیے پرامید ہے، لیکن زمینی حقائق اب بھی غیر یقینی ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



