تہران: ایران نے امریکہ کے ساتھ جاری امن مذاکرات کے لیے اپنی مذاکراتی ٹیم کا باضابطہ ترجمان مقرر کر دیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کو مذاکراتی وفد کا سرکاری ترجمان نامزد کیا ہے۔ یہ مذاکرات مغربی ایشیا میں جاری بحران کے مکمل حل کے مقصد سے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری ہیں۔ ایرانی نشریاتی ادارے کے مطابق امن مذاکراتی کوششوں کی قیادت کرنے والے محمد باقر قالیباف نے ایک باضابطہ حکم نامے کے ذریعے اسماعیل بقائی کی تقرری کا اعلان کیا۔ حکم نامے میں بقائی کو ’’انقلابی قوتوں میں شامل‘‘ اور ’’بین الاقوامی قانون کا ماہر‘‘ قرار دیتے ہوئے ان کے سفارتی تجربے اور وزارت خارجہ میں موجودہ کردار کو سراہا گیا۔
ایران کے موقف کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کی ذمہ داری
حکم نامے میں کہا گیا کہ اسماعیل بقائی عالمی سطح پر اسلامی جمہوریہ ایران کے موقف کی وضاحت اور مذاکرات سے متعلق عوامی سوالات کے جواب دینے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ قالیباف کے حکم نامے میں کہا گیا: ’’مجھے امید ہے کہ آپ اپنی ذمہ داری اور توجہ کے ساتھ دنیا میں ایران کے موقف کو واضح کرنے اور ایرانی عوام کے سوالات کے جواب دینے میں کامیاب ہوں گے۔‘‘
’میناب 168‘ نام رکھنے کی وجہ بھی آئے سامنے
ایران نے اپنی مذاکراتی ٹیم کا نام ’’میناب 168‘‘ رکھا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ نام ان 168 افراد کی یاد میں رکھا گیا ہے، جن میں 120 سے زائد بچے بھی شامل تھے اور جو مبینہ طور پر ایران کے علاقے میناب میں ایک اسکول پر امریکی حملے میں مارے گئے تھے۔ ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ اس تقرری کا مقصد مذاکراتی عمل کے دوران مربوط رابطہ کاری اور یکساں پیغام رسانی کو یقینی بنانا ہے، تاکہ امریکہ کے ساتھ جاری سفارتی بات چیت میں ایران کا مؤقف واضح انداز میں دنیا کے سامنے پیش کیا جا سکے۔
کون ہیں اسماعیل بقائی؟
اسماعیل بقائی (اسماعیل بقائی ہامان) ایک سینئر ایرانی سفارت کار ہیں جو اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ایران کی مذاکراتی ٹیم کے بھی ترجمان ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ کے مطابق اسماعیل بقائی نے ’’شہید بہشتی‘‘ یونیورسٹی سے بین الاقوامی قانون میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایرانی وزارت خارجہ سے وابستہ سکول آف انٹرنیشنل ریلیشنز سے ڈپلومیسی اور بین الاقوامی تنظیموں میں ماسٹرز کر رکھا ہے۔ انہوں نے 2001 میں ایرانی وزارت خارجہ میں اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کا آغاز انٹرنیشنل لیگل افیئرز کی جنرل ڈائریکٹوریٹ میں ایک قانونی اہلکار کے طور پر کیا۔ اسماعیل بقائی نے 2010 سے 2015 کے دوران ایرانی وزارت خارجہ میں معاہدات اور بین الاقوامی قانون کے شعبے کے سربراہ کا عہدہ سنبھالے رکھا۔ 2015 میں وہ مشترکہ جامع منصوبہ بندی (JCPOA)، جسے ایرانی جوہری معاہدے کے نام سے جانا جاتا ہے، میں ایران کے چیف مذاکرات کار کے سینئر مشیر رہے۔ یہ 2015 میں ایران اور ون پلس فائیو ملکوں کے گروپ کے درمیان دستخط شدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے۔ انہوں نے 2018 سے 2022 کے دوران جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں کے لیے ایران کے سفیر اور مستقل نمائندے کے طور پر بھی کام کیا ہے۔ 2022 سے 2024 کے درمیان اسماعیل بقائی نے ایرانی وزیر خارجہ کے فرسٹ اسسٹنٹ کا عہدہ سنبھالا۔ وہ 2024 سے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



