Bharat Express DD Free Dish

Global Affairs

وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ برکس نے اپنے قیام کے 20 برس مکمل کر لیے ہیں اور اب یہ تنظیم ’پختگی کے دور‘ میں داخل ہو چکی ہے۔ ایسے میں اگلی دو دہائیوں کے لیے ایک نیا اور پرعزم ایجنڈا تیار کرنے کا وقت آ گیا ہے۔

امریکی صدر نے پھر سے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ہی حملے میں ایران کی پوری قیادت کو ختم کر سکتے تھے، لیکن پھر مذاکرات کے لیے کوئی باقی نہ رہتا۔ آخری رسومات میں اعلیٰ قیادت اور عوام کے غم کا مذاق اڑاتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہیں حیرت ہوئی کیونکہ ان کے خیال میں ایرانی عوام خامنہ ای کو پسند نہیں کرتے تھے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق تقریب میں آٹھ سربراہانِ مملکت یا حکومت، بارہ ممالک کے پارلیمانی سربراہان اور متعدد وزرائے خارجہ و خصوصی ایلچی شریک ہوئے۔ ایرانی حکام کے مطابق سکیورٹی خدشات کے پیش نظر موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کی آخری رسومات میں شریک نہیں ہوئے۔ ایرانی فوجی قیادت نے بھی بیرونی قوتوں کو کسی بھی اشتعال انگیز کارروائی سے باز رہنے کی سخت تنبیہ کی ہے۔

بھارت کی جانب سے وزیرمملکت برائے امور خارجہ پبترا مارگریٹا اور بہار کے گورنر سید عطاء حسنین سرکاری وفد میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی اور کانگریس کے سینئر لیڈر سلمان خورشید بھی تہران پہنچنے والے نمایاں بھارتیوں میں شامل ہیں۔ تقریب میں جارجیا، عراق، تاجکستان، روس، چین، عمان، لبنان اور فلسطین سمیت متعدد ممالک کے سرکاری وفود بھی شریک ہوئے۔

ذرائع کے مطابق 4 جولائی سے آغاز ہونے والی کئی روزہ تقریبات 9 جولائی کو مشہد میں تدفین پر اختتام پذیر ہوں گی۔ آخری رسومات اور تدفین کی تقریب میں متعدد عالمی رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے۔

حکم نامے میں کہا گیا کہ اسماعیل بقائی عالمی سطح پر اسلامی جمہوریہ ایران کے موقف کی وضاحت اور مذاکرات سے متعلق عوامی سوالات کے جواب دینے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ قالیباف کے حکم نامے میں کہا گیا: ’’مجھے امید ہے کہ آپ اپنی ذمہ داری اور توجہ کے ساتھ دنیا میں ایران کے موقف کو واضح کرنے اور ایرانی عوام کے سوالات کے جواب دینے میں کامیاب ہوں گے۔‘‘

وائٹ ہاؤس کے ساؤتھ لان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مجھے آج رات ایک خط موصول ہونے والا ہے، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ امریکی صدر نے اشارہ دیا کہ اگر مذاکرات میں رکاوٹ پیدا ہوئی تو واشنگٹن اپنا موقف مزید سخت کرسکتا ہے۔

کینیڈین سکیورٹی انٹلی جنس سروس کی رپورٹ 2025 میں بھارت کو غیر ملکی مداخلت کرنے والے ممالک میں شامل کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نئی دہلی نے اپنے اسٹریٹجک مفادات کے لیے کینیڈین سیاستدانوں، صحافیوں اور انڈو-کینیڈین کمیونٹی کے افراد کے ساتھ خفیہ روابط قائم کرنے کی کوشش کی۔