Bharat Express DD Free Dish

diplomatic negotiations

حکم نامے میں کہا گیا کہ اسماعیل بقائی عالمی سطح پر اسلامی جمہوریہ ایران کے موقف کی وضاحت اور مذاکرات سے متعلق عوامی سوالات کے جواب دینے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ قالیباف کے حکم نامے میں کہا گیا: ’’مجھے امید ہے کہ آپ اپنی ذمہ داری اور توجہ کے ساتھ دنیا میں ایران کے موقف کو واضح کرنے اور ایرانی عوام کے سوالات کے جواب دینے میں کامیاب ہوں گے۔‘‘

مصر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور قطر سمیت کئی عرب ممالک نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا خیرمقدم کیا ہے۔ مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے عمان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ مسئلۂ جوہری کا حل صرف مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے۔

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ’’پاکستان اور افغانستان کے تعلقات عملاً منقطع ہو چکے ہیں۔ فی الحال کوئی باضابطہ رابطہ نہیں ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ’’کسی بھی وقت دوبارہ تصادم بھڑک سکتا ہے‘‘ جو اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات اس وقت نہایت نازک مرحلے میں ہیں۔

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے ساتھ تعاون ختم نہیں ہوا بلکہ اسے نئی شکل میں جاری رکھا گیا ہے۔ اب ایران کا جوہری تعاون براہ راست سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کی نگرانی میں ہوگا، جو سیکورٹی اور قومی مفاد کو مدنظر رکھ کر فیصلے کرے گی۔