Peace talks with US: امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے ایران نے اسماعیل بقائی کو مقرر کیا سرکاری ترجمان، اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کیا اعلان
حکم نامے میں کہا گیا کہ اسماعیل بقائی عالمی سطح پر اسلامی جمہوریہ ایران کے موقف کی وضاحت اور مذاکرات سے متعلق عوامی سوالات کے جواب دینے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ قالیباف کے حکم نامے میں کہا گیا: ’’مجھے امید ہے کہ آپ اپنی ذمہ داری اور توجہ کے ساتھ دنیا میں ایران کے موقف کو واضح کرنے اور ایرانی عوام کے سوالات کے جواب دینے میں کامیاب ہوں گے۔‘‘
Iran Uranium Enrichment: امریکہ سے مذاکرات کے بعد عباس عراقچی کا دوٹوک اعلان، کہا-’’یورینیم افزودگی پروگرام ہرگز ترک نہیں کرے گا ایران‘‘
مصر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور قطر سمیت کئی عرب ممالک نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا خیرمقدم کیا ہے۔ مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے عمان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ مسئلۂ جوہری کا حل صرف مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے۔
Pakistan, Afghanistan agree to 48-hour ceasefire: سرحدی جھڑپوں میں درجنوں ہلاکتوں کے بعد پاکستان اور افغانستان میں 48 گھنٹے کی عارضی جنگ بندی پر اتفاق
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ’’پاکستان اور افغانستان کے تعلقات عملاً منقطع ہو چکے ہیں۔ فی الحال کوئی باضابطہ رابطہ نہیں ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ’’کسی بھی وقت دوبارہ تصادم بھڑک سکتا ہے‘‘ جو اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات اس وقت نہایت نازک مرحلے میں ہیں۔
Iran ready for talks but US must provide guarantees: ایران مذاکرات کیلئے تیارلیکن امریکہ کو دینی ہوگی ضمانت، جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانا مذاکرات کے جذبے سے غداری کے مترادف: عباس عراقچی
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے ساتھ تعاون ختم نہیں ہوا بلکہ اسے نئی شکل میں جاری رکھا گیا ہے۔ اب ایران کا جوہری تعاون براہ راست سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کی نگرانی میں ہوگا، جو سیکورٹی اور قومی مفاد کو مدنظر رکھ کر فیصلے کرے گی۔





