ایران کے وزیر خارجہ سعید عباس عراقچی۔
تہران: ایران کے وزیر خارجہ سعید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ان کا ملک اپنے جوہری پروگرام پر مذاکرات کے لیے ہمیشہ تیار رہا ہے اور آئندہ بھی رہے گا، تاہم امریکہ کو اس بات کی ضمانت دینی ہوگی کہ ماضی کی طرح مذاکراتی عمل کو جنگی ماحول یا حملوں سے متاثر نہیں کیا جائے گا۔
جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانا سفارت کاری سے غداری
بین الاقوامی سفیروں سے گفتگو کرتے ہوئے عراقچی نے حالیہ اسرائیل-ایران تنازعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی مدد سے ایران پر حملہ اور ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنا کر امریکہ نے مذاکرات کے جذبے سے غداری کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر امریکہ دوبارہ مذاکرات چاہتا ہے تو اسے تحریری سطح پر یہ یقین دہانی کرانی ہوگی کہ مستقبل میں ایسی کارروائیاں نہیں دہرائی جائیں گی۔
ایرانی جوہری حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا
عراقچی نے کہا کہ ہر قسم کے مذاکرات میں ایران کے جوہری حقوق — خاص طور پر یورینیم کی گھریلو افزودگی — کا احترام ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کر دیا کہ کسی ممکنہ مذاکرات میں ایران کی عسکری صلاحیتوں پر کوئی بات چیت نہیں کی جائے گی۔
آئی اے ای اے سے تعاون نئی شکل میں جاری
ایران کے وزیر خارجہ نے بتایا کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے ساتھ تعاون ختم نہیں ہوا بلکہ اسے نئی شکل میں جاری رکھا گیا ہے۔ اب ایران کا جوہری تعاون براہ راست سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کی نگرانی میں ہوگا، جو سیکورٹی اور قومی مفاد کو مدنظر رکھ کر فیصلے کرے گی۔
یکم جولائی کو اہم قانون منظور
ایران نے یکم جولائی کو ایک قانون منظور کر کے IAEA کے ساتھ تعاون کو معطل کردیا۔ ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم سے اختیارات واپس لے کر اسے سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سپرد کر دیا۔
سفارت کاری ہی واحد راستہ
عراقچی نے اپنے بیان میں زور دیا کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی نے ثابت کر دیا کہ سفارت کاری، مذاکرات اور اتفاق رائے ہی واحد پائیدار حل ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب عالمی سطح پر ایران کے جوہری پروگرام پر پھر سے مذاکرات شروع کرنے کی کوششیں جاری ہیں، لیکن ایران امریکہ سے سنجیدہ اعتماد سازی کی ضمانت چاہتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




