Bharat Express DD Free Dish

Iran US relations

ایرانی صدر نے کہا ’’ایران اس وقت تک اپنی ذمہ داریوں پر قائم رہے گا جب تک امریکہ مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا رہے گا۔ جہاں کہیں وہ اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہوگا، وہاں ہماری بھی اسے جاری رکھنے کی کوئی ذمہ داری نہیں ہوگی۔‘‘

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکہ کو اپنے بیانات انتہائی احتیاط سے دینے چاہئیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کی مسلح افواج ہر قسم کی صورتحال کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹیم کو صرف میچ والے دن ہی امریکی سرزمین میں داخلے کی اجازت ہوگی اور میچ ختم ہوتے ہی فوری طور پر ملک چھوڑنا ہوگا، جس سے کوچنگ اسٹاف اور انتظامیہ کے لیے بڑے لاجسٹک مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔

ایران نے امریکہ کی جانب سے پیش کیے گئے 14 نکاتی منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے ایک نیا مسودہ تجویز واشنگٹن کو بھیج دیا ہے۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے نئے ڈرافٹ کو مکمل طور پر رد کر دیا۔ اس کے بعد بھارت میں ایرانی سفارت خانے نے امریکی صدر کے بیان پر سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے۔

واشنگٹن میں ایک تقریب کے دوران ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ہم ایک معاہدہ کریں گے یا کسی نہ کسی طریقے سے معاہدہ کروائیں گے‘‘۔ بعد ازاں ایک اور تقریب میں انہوں نے کہا کہ امریکی عوام کو آئندہ چند دنوں میں صورتحال واضح ہو جائے گی۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ فیصلہ زیادہ سے زیادہ 10 سے 15 دنوں میں سامنے آ سکتا ہے۔

ادھر اسرائیل نے بھی اپنی تشویش ظاہر کی ہے۔ اسرائیلی خفیہ ادارے کے سربراہ ڈیوڈ برنیا ایران سے متعلق بات چیت کے لیے واشنگٹن پہنچے، جہاں انہوں نے امریکی حکام سے ملاقاتیں کیں۔ وائٹ ہاؤس نے اس سے قبل کہا تھا کہ اگر ایران میں مزید خونریزی ہوئی تو اس کے ’’سنگین نتائج‘‘ ہوں گے۔

مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی ایک خطرناک موڑ پر پہنچتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایران کی جانب سے سخت فوجی کارروائی کی وارننگ کے بعد قطر میں قائم امریکہ کے سب سے بڑے فوجی اڈے پر بے چینی کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔

کیا جنگ کے دہانے پر کھڑا ایران امریکا کے سامنے جھک گیا ہے، یا یہ کوئی نئی سفارتی چال ہے؟ تہران نے اچانک ’بات چیت‘ کی تجویز بھیجی، لیکن ٹرمپ کی وارننگ نے دنیا کی دھڑکنیں تیز کر دیں؛ پڑھیں پوری خبر

ایران میں حکومت مخالف مظاہرے گزشتہ دو ہفتوں سے مسلسل جاری ہیں، جہاں عوام ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی قیادت والی حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ صورتحال اس قدر سنگین ہو چکی ہے کہ ملک میں گزشتہ 84 گھنٹوں سے زائد عرصے سے فون اور انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر بند ہے۔ امریکی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ایران میں جاری ان مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 500 سے تجاوز کر گئی ہے۔

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے ساتھ تعاون ختم نہیں ہوا بلکہ اسے نئی شکل میں جاری رکھا گیا ہے۔ اب ایران کا جوہری تعاون براہ راست سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کی نگرانی میں ہوگا، جو سیکورٹی اور قومی مفاد کو مدنظر رکھ کر فیصلے کرے گی۔