Bharat Express DD Free Dish

Iran Protests Updates: ایران میں 84 گھنٹوں سے زائد عرصے سے فون اور انٹرنیٹ سروس معطل، ہلاکتیں 500 سے تجاوز، ہزاروں افراد گرفتار

ایران میں حکومت مخالف مظاہرے گزشتہ دو ہفتوں سے مسلسل جاری ہیں، جہاں عوام ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی قیادت والی حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ صورتحال اس قدر سنگین ہو چکی ہے کہ ملک میں گزشتہ 84 گھنٹوں سے زائد عرصے سے فون اور انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر بند ہے۔ امریکی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ایران میں جاری ان مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 500 سے تجاوز کر گئی ہے۔

ایران میں حکومت مخالف مظاہرے گزشتہ دو ہفتوں سے مسلسل جاری ہیں، جہاں عوام ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی قیادت والی حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ صورتحال اس قدر سنگین ہو چکی ہے کہ ملک میں گزشتہ 84 گھنٹوں سے زائد عرصے سے فون اور انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر بند ہے، جس کے باعث لوگ ایک دوسرے سے رابطہ کرنے سے قاصر ہیں اور بیرونی دنیا تک معلومات کی رسائی بھی محدود ہو گئی ہے۔ امریکی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ایران میں جاری ان مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 500 سے تجاوز کر گئی ہے۔ تازہ دعووں کے مطابق اب تک کم از کم 544 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ گرفتار شدگان کی تعداد 10 ہزار سے زیادہ بتائی جا رہی ہے۔ یہ اعداد و شمار پہلے سامنے آنے والی رپورٹس سے کہیں زیادہ ہیں، جن میں ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 115 اور گرفتار افراد کی تعداد دو ہزار کے قریب بتائی گئی تھی۔

ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی (ایچ آر اے این اے) نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ گزشتہ 15 دنوں کے دوران ہونے والے مظاہروں میں کم از کم 544 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جن میں آٹھ بچے بھی شامل ہیں۔ تنظیم کے مطابق سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے بعد 10,681 سے زائد افراد کو گرفتار کر کے مختلف جیلوں میں منتقل کیا جا چکا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کئی علاقوں میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جس کے نتیجے میں جانی نقصان میں اضافہ ہوا۔

اسی دوران ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آئی ہے جس میں مظاہرین کی جانب سے بچوں کو نشانہ بنا کر دھماکہ خیز مواد پھینکنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اگرچہ ویڈیو میں دکھائی دینے والے بچے معجزانہ طور پر محفوظ رہے، لیکن اس واقعے نے ملک میں تشدد کی سنگینی کو مزید اجاگر کر دیا ہے۔ ایرانی حکام نے ان دعوؤں پر اب تک کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے بات چیت کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق امریکہ نے ایران کی صورتحال کے حوالے سے ممکنہ فوجی آپشنز پر غور کیا، جس کے بعد ایران مذاکرات پر راضی ہوا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور تمام آپشنز میز پر موجود ہیں۔

اس سے قبل ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر امریکی فوج نے ایران میں مداخلت کی تو امریکی فوجی اور تجارتی اڈوں کو جوابی کارروائی کا نشانہ بنایا جائے گا۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے بھی رپورٹ کیا تھا کہ صدر ٹرمپ کو ایران کے معاملے پر فوجی آپشنز کی بریفنگ دی جا چکی ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ دریں اثنا ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا ایک ویڈیو بیان بھی منظر عام پر آیا ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ دشمنوں کی تمام کوششوں کے باوجود اسلامی جمہوریہ ایران آج بھی مضبوط، طاقتور اور خوشحال ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ چار دہائیوں میں ایران کے خلاف ہر ممکن دباؤ ڈالا گیا، مگر دشمن اپنے مقاصد میں ناکام رہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read