Bharat Express DD Free Dish

Iran politics

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی مہر نیوز نے ایک بغیر تاریخ کی ویڈیو جاری کی ہے، جس میں مجتبیٰ خامنہ ای بظاہر صحت مند نظر آرہے ہیں۔ ویڈیو کے اجرا کو مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت اور موجودہ مقام سے متعلق بڑھتی ہوئی قیاس آرائیوں کو مسترد کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ابتدا میں تکنیکی نگرانی اور سگنل انٹیلی جنس پر انحصار کیا جا رہا تھا، تاہم مجتبیٰ خامنہ ای کی مسلسل غیر موجودگی کے باعث اب انسانی ذرائع (ہیومن انٹیلی جنس) کے ذریعے معلومات حاصل کرنے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ طریقہ زیادہ پیچیدہ، سست اور خطرات سے بھرپور سمجھا جاتا ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر نے عراق کے عوام کے نام تحریری پیغام میں کہا ہے کہ خطے میں امریکہ کی بلا روک ٹوک بالادست موجودگی کا تسلسل ایک ’بے وقوفانہ خیال‘ ہے۔ انہوں نے اپنے والد علی خامنہ ای کی ہلاکت کا بدلہ لینے کا عزم بھی دہرایا۔

ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے اسلامک ریپبلک آف ایران براڈکاسٹنگ (IRIB) کے مطابق دانِش چوراہے سے روضۂ امام رضا تک غیر معمولی ہجوم کے باعث آیت اللہ خامنہ ای کی میت کو فضائی راستے سے مزار تک منتقل کیا گیا۔ سرکاری ٹیلی ویژن نے جنازے کے جلوس کے مناظر نشر کیے، جن میں سڑکوں کے دونوں جانب بڑی تعداد میں سوگوار سابق ایرانی رہنما کو آخری خراجِ عقیدت پیش کرتے دکھائی دیے۔

امریکی صدر نے پھر سے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ہی حملے میں ایران کی پوری قیادت کو ختم کر سکتے تھے، لیکن پھر مذاکرات کے لیے کوئی باقی نہ رہتا۔ آخری رسومات میں اعلیٰ قیادت اور عوام کے غم کا مذاق اڑاتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہیں حیرت ہوئی کیونکہ ان کے خیال میں ایرانی عوام خامنہ ای کو پسند نہیں کرتے تھے۔

دہلی کے اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اس وقت جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے جب ایران سے واپس آنے والے بھارتی شہریوں کے استقبال کے لیے ان کے اہلِ خانہ بڑی بے چینی اور امید کے ساتھ موجود تھے۔ گزشتہ چند دنوں سے ایران میں انٹرنیٹ بند ہونے کی اطلاعات نے اہلِ خانہ کی تشویش میں اضافہ کر دیا تھا، تاہم اپنے عزیزوں کی بحفاظت واپسی نے سب کو سکون کا احساس دلایا اور چہروں پر مسکراہٹ لوٹا دی۔

ایران میں جاری شدید اور پرتشدد مظاہروں کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں پہلی مرتبہ ایرانی حکام نے کھل کر اعتراف کیا ہے کہ ملک بھر میں اب تک تقریباً 2000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان ہلاکتوں میں سیکیورٹی اہلکار اور مظاہرین دونوں شامل ہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پیر کے روز تہران میں غیر ملکی سفارت کاروں کے ساتھ ایک اہم اجلاس کے دوران کہا کہ ملک میں پیدا ہونے والے موجودہ بحران اور خونریز تصادم کے پیچھے امریکہ اور اسرائیل کا بڑا ہاتھ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرونی طاقتیں ایران میں عدم استحکام پیدا کرنے اور ممکنہ فوجی مداخلت کا جواز بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

ایران میں گزشتہ دو ہفتوں سے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف عوام سڑکوں پر احتجاج کر رہی ہے۔ اس دوران کچھ رپورٹس میں یہ دعویٰ سامنے آیا کہ احتجاج کے دوران چھ بھارتی اور دس افغان شہریوں کو گرفتار کیا گیا ہے، لیکن ایران کے سفیر محمد فتح علی نے اس خبر کی سختی سے تردید کی ہے۔

ایران میں حکومت مخالف مظاہرے گزشتہ دو ہفتوں سے مسلسل جاری ہیں، جہاں عوام ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی قیادت والی حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ صورتحال اس قدر سنگین ہو چکی ہے کہ ملک میں گزشتہ 84 گھنٹوں سے زائد عرصے سے فون اور انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر بند ہے۔ امریکی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ایران میں جاری ان مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 500 سے تجاوز کر گئی ہے۔