تہران: ایران میں جاری شدید اور پرتشدد مظاہروں کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں پہلی مرتبہ ایرانی حکام نے کھل کر اعتراف کیا ہے کہ ملک بھر میں اب تک تقریباً 2000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان ہلاکتوں میں سیکیورٹی اہلکار اور مظاہرین دونوں شامل ہیں۔ یہ انکشاف ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کے دوران کیا، جسے ایران میں جاری بحران کے حوالے سے ایک غیر معمولی اعتراف قرار دیا جا رہا ہے۔ ایرانی عہدیدار کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں اب بھی پرتشدد مظاہرے جاری ہیں اور کئی شہروں میں حالات بدستور قابو سے باہر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے جب حکومت نے عوامی سطح پر اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کو تسلیم کیا ہے۔ اس سے قبل سرکاری بیانات میں اموات کی تعداد محدود بتائی جاتی رہی تھی۔
امریکہ اور اسرائیل پر الزام
رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے ان ہلاکتوں کا بالواسطہ ذمہ دار امریکہ اور اسرائیل کو ٹھہرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان مظاہروں کے دوران ہونے والی اموات کے پیچھے ”دہشت گرد عناصر“ کا ہاتھ ہے، جو مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز دونوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ تاہم حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ ہلاک ہونے والوں میں کن گروہوں یا علاقوں کے افراد شامل ہیں۔
ایران میں بدامنی کیسے پھیلی؟
ایران میں حالیہ بدامنی کی جڑیں خطے میں اسرائیل کے ساتھ کشیدگی اور اس کے بعد امریکہ اور یورپی یونین کی جانب سے عائد کیے گئے سخت معاشی پابندیوں سے جڑی بتائی جا رہی ہیں۔ پابندیوں کے نتیجے میں ایرانی کرنسی کی قدر میں شدید گراوٹ آئی، جس سے مہنگائی آسمان کو چھونے لگی۔ حالات اس قدر خراب ہو گئے کہ لوگ تھیلوں میں نوٹ لے کر جاتے تھے، مگر اس کے باوجود روزمرہ اشیا، حتیٰ کہ ایک روٹی خریدنا بھی مشکل ہو گیا۔ اقتصادی بحران کے خلاف سب سے پہلے تہران کے تاریخی گرینڈ بازار کے تاجروں نے احتجاج شروع کیا۔ ان مظاہروں کو حکومتی فورسز نے سختی سے کچل دیا۔ جب یہ خبریں ملک کے دوسرے حصوں تک پہنچیں تو عوام کی بڑی تعداد حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئی۔
احتجاج حکومت مخالف تحریک میں تبدیل
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ احتجاج میں شامل افراد کی تعداد بڑھتی چلی گئی۔ جو مظاہرے ابتدا میں مہنگائی، بے روزگاری اور اقتصادی بدحالی کے خلاف تھے، وہ آہستہ آہستہ براہِ راست حکومت مخالف تحریک میں تبدیل ہو گئے۔ کئی شہروں میں مظاہرین نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف نعرے لگائے، جس کے بعد سیکیورٹی کارروائیاں مزید تیز کر دی گئیں۔
ایران کا سرکاری موقف
ایرانی حکومت نے ان مظاہروں کو ”غیر ملکی سازش“ قرار دیتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل کو کٹہرے میں کھڑا کیا ہے۔ تہران کا الزام ہے کہ کچھ نامعلوم افراد، جو مبینہ طور پر امریکہ اور اسرائیل سے وابستہ ہیں، مظاہرین کے درمیان گھس کر ہلاکتیں کر رہے ہیں اور پھر ہجوم کا فائدہ اٹھا کر فرار ہو جاتے ہیں۔ ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ احتجاجی تحریک کو بیرونی طاقتوں نے ہائی جیک کر لیا ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ چند روز قبل ایک انسانی حقوق کی تنظیم نے دعویٰ کیا تھا کہ مظاہروں میں سیکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ ملک بھر میں انٹرنیٹ بند ہونے کے باعث آزاد معلومات کا باہر آنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


