تہران: ایران میں جاری شدید احتجاجی مظاہروں اور پرتشدد واقعات کے درمیان ایرانی حکومت نے امریکہ اور اسرائیل پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پیر کے روز تہران میں غیر ملکی سفارت کاروں کے ساتھ ایک اہم اجلاس کے دوران کہا کہ ملک میں پیدا ہونے والے موجودہ بحران اور خونریز تصادم کے پیچھے امریکہ اور اسرائیل کا بڑا ہاتھ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرونی طاقتیں ایران میں عدم استحکام پیدا کرنے اور ممکنہ فوجی مداخلت کا جواز بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
عباس عراقچی نے واضح طور پر الزام لگایا کہ حالیہ مظاہروں کے دوران تشدد کو جان بوجھ کر ہوا دی گئی تاکہ حالات اس حد تک بگڑ جائیں کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو ایران میں فوجی کارروائی کا بہانہ مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس ایسے ٹھوس شواہد موجود ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ حالیہ بدامنی میں امریکہ اور اسرائیل براہ راست یا بالواسطہ طور پر ملوث ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق، مظاہروں کے دوران بعض مسلح عناصر کی موجودگی بھی دیکھی گئی، جو نہ صرف پرامن مظاہرین بلکہ سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کو بھی نشانہ بنا رہے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی حکام کے پاس ایسی آڈیو ریکارڈنگز موجود ہیں جن میں مبینہ طور پر دہشت گرد عناصر کو ہدایات دی جا رہی تھیں کہ وہ پولیس، سکیورٹی اہلکاروں اور حتیٰ کہ بے گناہ شہریوں پر فائرنگ کریں۔
🚨🇮🇷🇮🇱🇺🇸 BREAKING: The Iranian ppl flooded the streets on Monday, January 12, to support the Islamic Republic & condemn the riots orchestrated by M0ssad, as well as the American-I$r@eli threats against their country.#Iran#IranProtests#Trump #シクスト دونالد ترامب pic.twitter.com/QRNN2Ql7Nu
— ιτѕ мєℓικα💫 (@Melikaa313) January 12, 2026
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ تشدد میں مارے جانے والے کئی افراد کو پیچھے سے گولیاں ماری گئیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ہلاکتیں اتفاقی نہیں بلکہ منظم کارروائی کا حصہ تھیں۔ ان کے مطابق بعض عناصر کو براہ راست بیرونی طاقتوں کی جانب سے احکامات دیے جا رہے تھے، اور یہ تمام شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی منظم سازش کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد نے ان مظاہروں میں ملوث گھس پیٹھیوں کی مدد کی۔ عراقچی کا کہنا تھا کہ فارسی زبان بولنے والے موساد کے ایجنٹس نے احتجاجی تحریک میں دراندازی کی اور اسے پرتشدد رخ دینے میں کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق یہ عناصر مساجد، طبی مراکز اور دیگر عوامی عمارتوں کو نشانہ بنانے میں بھی ملوث تھے۔
دوسری جانب، امریکہ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر مظاہرین کے خلاف طاقت کا بے جا استعمال کیا گیا تو وہ فوجی کارروائی پر غور کر سکتا ہے۔ ایرانی حکومت اس امریکی موقف کو دباؤ کی سیاست قرار دے رہی ہے اور کہہ رہی ہے کہ یہی دھمکیاں دراصل موجودہ حالات کو مزید بگاڑنے کا سبب بن رہی ہیں۔ ایران میں گزشتہ کئی دنوں سے مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات کے خلاف عوامی مظاہرے جاری ہیں، جو بعض علاقوں میں پرتشدد ہو چکے ہیں۔ ایسے میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان الزامات اور جوابی الزامات نے خطے کی صورتحال کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے اور عالمی برادری کی نظریں اب اس بحران کے آئندہ رخ پر جمی ہوئی ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

