Bharat Express DD Free Dish

Iran and Israel

بھارت کے وزیر اعظم مودی بدھ کے روز دو روزہ سرکاری دورے پر اسرائیل پہنچیں گے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو نے اس دورے کو نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، سفارتی اور سلامتی تعاون کو نئی تقویت ملے گی۔

وزیر اعظم مودی نے اسرائیل کے اپنے آئندہ دورے سے قبل خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو سے ملاقات اور دوطرفہ مذاکرات کے لیے بے حد پُرامید ہیں۔ وزیر اعظم مودی نے اتوار کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر نتن یاہو کے بیان کے جواب میں یہ اظہار خیال کیا۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پیر کے روز تہران میں غیر ملکی سفارت کاروں کے ساتھ ایک اہم اجلاس کے دوران کہا کہ ملک میں پیدا ہونے والے موجودہ بحران اور خونریز تصادم کے پیچھے امریکہ اور اسرائیل کا بڑا ہاتھ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرونی طاقتیں ایران میں عدم استحکام پیدا کرنے اور ممکنہ فوجی مداخلت کا جواز بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

ایران کے تین بڑے نیوکلیئرٹھکانوں پرامریکی بمباری کے بعد، ڈونالڈ ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہوسے کہا کہ یہ جنگ بند کرنے اورسفارتی مذاکرات میں واپس آنے کا وقت ہے۔

روس کی ترجمان نے زور دیا کہ ایران کے جوہری تنازع کا حل سفارت کاری اور بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس ہمیشہ سے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تنازعات کے سیاسی اور سفارتی حل کی وکالت کرتا رہا ہے۔

عالمی مارکیٹوں میں سرمایہ کار اس حملے کے معاشی اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں، جہاں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے عالمی معیشت پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، جو پہلے ہی ٹرمپ کی طرف سے عائد کردہ ٹیرف کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہے۔

سیٹلائٹ امیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حملے کے بعد زمین اندر کی طرف دھنس گئی، جب کہ سرنگ کے داخلی دروازے مٹی سے بند کر دیے گئے۔ فردو نیوکلیئر سائٹ تک پہنچنے کے بہت سے راستے ہیں۔

غور طلب ہے کہ امریکہ اب براہ راست ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع میں شامل ہو گیا ہے۔ ہفتے کی رات دیر گئے امریکی طیاروں نے ایران کے تین بڑے جوہری اڈوں فردو، نطنز اور اصفہان پر زبردست فضائی حملہ کیا۔

موجودہ تنازع میں ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل حملوں اور اسرائیل کے جوابی حملوں کے بعد علاقائی کشیدگی عروج پر ہے۔ عراقچی کی پیوتن سے ملاقات ممکنہ طور پر فوجی اور سیاسی تعاون کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر ایران کے موقف کو تقویت دینے کے لیے اہم ہوگی۔

امریکی صدر کی انتظامیہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کوئی بھی بڑی فوجی کارروائی کرنے سے پہلے سفارتی راستوں کو ترجیح دے۔ وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے کہا کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں استحکام کے لیے پرعزم ہے۔