Bharat Express DD Free Dish

Abbas Araghchi

ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے جمعرات کو بلغاریہ اور قبرص پر زور دیا کہ وہ امریکہ کو ایران کے خلاف حملوں کے لیے اپنی سرزمین پر موجود فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان حملوں اور سخت بیانات کے باعث کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے، جس سے خطے کی صورتحال مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے۔

عباس عراقچی نے کہا کہ ایرانی عوام اور قیادت کے خلاف کسی بھی قسم کی دھمکی یا جارحانہ اقدام کا فوری اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ان کی جانب سے شیئر کی گئی پوسٹ کے مطابق، جب اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز سے ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ان کی ’موت طے ہے‘۔

ایران کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام اور اسرائیل کی تازہ فوجی کارروائیوں نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر صورتِ حال پر جلد قابو نہ پایا گیا تو تنازع مزید وسیع ہو سکتا ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچ سکتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی فوج کو یہ نقصان ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے دوران اٹھانا پڑا۔ یہ 40 روزہ امریکی-اسرائیلی فضائی مہم تھی، جو 28 فروری 2026 سے ایران کے خلاف شروع کی گئی تھی۔

جنگی کشیدگی کے باعث ایرانی کرنسی ریال پر بھی شدید دباؤ دیکھا جا رہا ہے۔ ہفتہ کے روز تہران کی اوپن مارکیٹ میں ایک امریکی ڈالر کے مقابلے ایرانی ریال کی قدر تقریباً 18 لاکھ ریال تک گر گئی، جو اس ماہ کی کم ترین سطح کے قریب بتائی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی کم نہ ہوئی تو ایران اور عالمی معیشت دونوں پر اس کے مزید سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے بھارت اور ایران کے تعلقات کو مضبوط قرار دیتے ہوئے کہا کہ تہران دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کو مزید آگے بڑھانے کے لیے پُرعزم ہے۔

مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی اور سمندری راستوں پر تنازع کے درمیان آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی سیاست اور توانائی سلامتی کے مرکز میں آ گئی ہے، جہاں کسی بھی کشیدگی کے اثرات پوری دنیا کی معیشت پر پڑسکتے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ برکس ایک زیادہ متوازن اور منصفانہ عالمی نظام کی تشکیل میں مرکزی ستون بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں برکس ممالک کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے اجلاس میں شریک وزرائے خارجہ اور نمائندوں کے ساتھ برکس کے سرکاری ’’فیملی فوٹو‘‘ سیشن میں بھی شرکت کی۔ اس موقع پر رکن ممالک اور شراکت دار ممالک کے نمائندے ایک ساتھ نظر آئے، جسے سفارتی یکجہتی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔