Bharat Express DD Free Dish

Abbas Araghchi

بھارت منڈپم میں برکس ممالک اور شراکت دار ملکوں کے نمائندے جمع ہوئے ہیں جہاں اقتصادی تعاون، عالمی سلامتی اور کثیر جہتی اصلاحات پر تبادلۂ خیال ہورہا ہے۔ اجلاس کا مقصد عالمی معیشت میں برکس کی اجتماعی آواز کو مضبوط بنانا، بینکنگ، سرمایہ کاری، اور پائیدار ترقی جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانا، اور بین الاقوامی سلامتی و گورننس پر یکساں موقف اختیار کرنا ہے۔

برکس اس وقت دنیا کی گیارہ بڑی ابھرتی ہوئی معیشتوں پر مشتمل ایک اہم عالمی پلیٹ فارم ہے، جس میں برازیل، چین، مصر، ایتھوپیا، بھارت، انڈونیشیا، ایران، روس، سعودی عرب، جنوبی افریقہ اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔

ایران کی وزارت خارجہ نے امریکی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں 8 اپریل کے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا۔ ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے امریکہ پر ’غیر ذمہ دارانہ فوجی کارروائی‘ کا الزام لگایا اور کہا کہ جب سفارتی حل موجود ہو تو ایسی کارروائیاں ناقابل قبول ہیں۔

ذرائع کے مطابق آئندہ 48 گھنٹوں کے اندر دونوں ممالک کے درمیان ایک باضابطہ معاہدے پر دستخط کیے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد جنگ کے خاتمے کا باضابطہ اعلان کیا جا سکتا ہے۔ سفارتی حلقوں میں اس پیش رفت کو غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔

آبنائے ہرمز میں امریکہ اورایران کے درمیان ہوئی گولی باری سے جنگ کا خطرہ بڑھا۔ تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور شیئربازار میں گراوٹ آرہی ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ جانتے ہیں کہ کیا عالمی توانائی کا بحران مزید گہرا ہو گا؟

ایران اور امریکہ کے درمیان پیغامات کا تبادلہ پاکستان کے ذریعے ہو رہا ہے، قابل ذکر بات یہ ہے کہ  اب تک دونوں ممالک کے درمیان کسی ٹھوس نتیجے پر اتفاق نہیں ہو سکا۔ امریکہ کا مطالبہ ہے کہ ایران آئندہ بیس سال کے لیے اپنے جوہری پروگرام کو معطل کرے اور اپنے پاس موجود افزودہ یورینیم کا ذخیرہ حوالے کرے،

عمان کے وزیر خارجہ نے بھی ملاقات کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز پر ہونے والی گفتگو نہایت مثبت رہی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری کے تئیں ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے نہ صرف سمندری راستوں کی آزادی کو یقینی بنانا ضروری ہے بلکہ طویل عرصے سے یرغمال بنائے گئے ملاحوں کی رہائی بھی فوری انسانی ضرورت ہے۔

ایران نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس کی فوج پہلے سے زیادہ مضبوط اور تیار ہے اور وہ اپنی خودمختاری، قومی مفادات اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔

جنگ بندی کی شرائط کے مطابق، ایران نے 40 دن کے بعد آبنائے ہرمزکومکمل طورپر کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کیا۔ عراقچی نے کہا، ہم اس راستے کوکھول رہے ہیں۔ ایرانی حکام راستے کا تعین کریں گے۔

پاکستانی اخبار دی ایکسپریس ٹریبیون نے 3 اپریل 2026 کو رپورٹ کیا تھا کہ امریکہ بات کرنے کے لیے تیار تھا لیکن ایران نے آخری لمحے میں اسلام آباد آنے سے انکار کر دیا۔ اسی طرح امریکی اخبار دی وال اسٹریٹ جرنل نے بھی پاکستانی حکام کے حوالے سے اسی نوعیت کی رپورٹ شائع کی تھی۔