Bharat Express DD Free Dish

Iranian Foreign Minister Seyed Abbas Araghchi: ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کی سفارتی رابطوں میں تیزی، عمان کے سلطان سے ملاقات، روس میں پوتن سے اہم بات چیت

عمان کے وزیر خارجہ نے بھی ملاقات کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز پر ہونے والی گفتگو نہایت مثبت رہی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری کے تئیں ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے نہ صرف سمندری راستوں کی آزادی کو یقینی بنانا ضروری ہے بلکہ طویل عرصے سے یرغمال بنائے گئے ملاحوں کی رہائی بھی فوری انسانی ضرورت ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے خطے میں جاری کشیدگی کے درمیان اپنی سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ پاکستان کے دورے کے بعد وہ عمان پہنچے، جہاں انہوں نے ہیشم بن طارق السعید اور عمان کے وزیر خارجہ بدربن حمد البوسعیدی سے اہم ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں علاقائی سلامتی اور خاص طور پر آبنائے ہرمز کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ سید عباس عراقچی نے عمانی قیادت کے ساتھ بات چیت میں آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور بحری راستوں کی سیکورٹی کو یقینی بنانے کے امور پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ساحلی ممالک کی حیثیت سے یہ سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ بین الاقوامی تجارت کے اس اہم راستے پر محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنایا جائے، تاکہ خطے اور دنیا بھر کو فائدہ پہنچے۔

ادھر روسی میڈیا کے مطابق، روسی صدر ولادیمیر پوتن پیر کے روز ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات کریں گے۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے اس مجوزہ ملاقات کی تصدیق کی ہے۔ روس اور ایران دونوں ہی مغربی پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں، جس کے باعث حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے تعلقات میں نمایاں قربت دیکھی گئی ہے۔روسی وزارت خارجہ نے بھی سید عباس عراقچی کے دورۂ ماسکو کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملاقات باہمی تعاون اور علاقائی مسائل پر تبادلہ خیال کے لیے اہم ہوگی، تاہم مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر عمان کے سلطان کے ساتھ ملاقات کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے میزبان ملک کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات اور خطے کی ترقی سے متعلق تعمیری بات چیت ہوئی۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران اپنے ہمسایہ ممالک کو اولین ترجیح دیتا ہے۔

دوسری جانب عمان کے وزیر خارجہ نے بھی ملاقات کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز پر ہونے والی گفتگو نہایت مثبت رہی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری کے تئیں ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے نہ صرف سمندری راستوں کی آزادی کو یقینی بنانا ضروری ہے بلکہ طویل عرصے سے یرغمال بنائے گئے ملاحوں کی رہائی بھی فوری انسانی ضرورت ہے۔واضح رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اب بھی برقرار ہے۔ اگرچہ جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں، قابل ذکر بات یہ ہے کہ  ایران نے امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات سے انکار کر رکھا ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کی ثالثی میں بالواسطہ بات چیت کی جا رہی ہے۔ایرانی وزیر خارجہ کا یہ تین ملکی دورہ، جس میں پاکستان، عمان اور روس شامل ہیں، خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں خاص اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ ماسکو میں ہونے والی ملاقاتیں نہ صرف ایران-روس تعلقات کو مزید مضبوط کریں گی بلکہ مشرق وسطیٰ کی بدلتی صورتحال پر بھی گہرے اثرات مرتب کریں گی۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read