Bharat Express DD Free Dish

Abbas Araghchi

رپورٹس کے مطابق جنگی جہاز ڈینا آندھرا پردیش کے وشاکھاپٹنم سے واپسی کے دوران 4 مارچ کو سری لنکا کے جنوبی ساحل کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں تھا، جب اس پر حملہ کیا گیا۔ اس کے بعد امریکہ کے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے دعویٰ کیا کہ بحرِ ہند میں ایران کے ایک جنگی جہاز کو امریکی افواج نے ٹارپیڈو حملے کے ذریعے ڈبو دیا ہے۔

وزیر اعظم مودی کے جاری دورۂ اسرائیل کے درمیان ایران نے اہم سفارتی بیان دیتے ہوئے بھارت سے فلسطین کے مسئلے پر فعال کردار ادا کرنے کی امید ظاہر کی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ وزیر اعظم مودی اسرائیل میں قیام کے دوران فلسطینی عوام کے حقوق کا معاملہ ضرور اٹھائیں گے۔

ٹرمپ کی دھمکیوں کے جواب میں ایران بھی سخت موقف اختیار کیے ہوئے ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے جمعہ کے روز استنبول میں کہا کہ ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن وہ کسی قسم کی دھمکی یا دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پیر کے روز تہران میں غیر ملکی سفارت کاروں کے ساتھ ایک اہم اجلاس کے دوران کہا کہ ملک میں پیدا ہونے والے موجودہ بحران اور خونریز تصادم کے پیچھے امریکہ اور اسرائیل کا بڑا ہاتھ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرونی طاقتیں ایران میں عدم استحکام پیدا کرنے اور ممکنہ فوجی مداخلت کا جواز بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

ایرانی میڈیا نے جمعرات کے روز بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران کے دو صوبوں میں احتجاجی مظاہروں کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم تین افراد ہلاک اور 13 سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

وزیر خارجہ نے مزید لکھا کہ اگر صدر ٹرمپ کسی معاہدے کے لیے واقعی سنجیدہ ہیں تو انہیں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے بارے میں توہین آمیز اور ناقابل قبول زبان کو ترک کرنا چاہیے

واضح رہے کہ ہندوستان اور ایران کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات ہیں اور دونوں ممالک مختلف علاقائی اور عالمی مسائل پر مل کر کام کر رہے ہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کو یو این چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ’’سنگین نتائج‘‘ سے خبردار کیا ہے۔

حالانکہ، ٹرمپ ایران کے ساتھ ایک ایسے معاہدے سے گریز کرنا چاہتے ہیں جو جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن (JCPOA) کی طرح ہو، جس پر باراک اوباما کے دور میں اتفاق ہوا تھا۔ اس میں یورپی یونین اور چین بھی شامل تھے۔ ٹرمپ نے 2018 میں جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن سے دستبرداری اختیار کی اور تہران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دیں۔

عمان کے دارالحکومت میں ایران کے سرکاری IRIB ٹی وی سے بات کرتے ہوئے، ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ بات چیت عام موضوعات سے ہٹ کر مزید مخصوص تجاویز کی طرف چلی گئی ہے۔ انہوں نے بات چیت کو آگے بڑھنے سے تعبیر کیا لیکن مسائل کی بڑھتی ہوئی پیچیدگی کو بھی تسلیم کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں فریقوں نے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔