Bharat Express DD Free Dish

Abbas Araghchi

ٹرمپ نے تہران اور عالمی طاقتوں کے درمیان 2015 کے معاہدے سے خود کو (امریکہ) الگ کر لیا ہے۔ مغربی ممالک کا خیال ہے کہ اب 2015 کا معاہدہ تقریباً غیر فعال ہونے کے بعد ایران نے اپنا جوہری پروگرام تیز کر دیا ہے اور اس کا مقصد ہتھیار بنانا ہے جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ یہ مکمل طور پر شہری مقاصد کے لیے ہے۔

وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق ہند-ایران دوستی معاہدے پر دستخط کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد ہونے والے مشترکہ کمیشن کی میٹنگ میں دونوں ممالک کے درمیان باہمی دلچسپی کے امور اور دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے آگے بڑھنے کے راستے کا جائزہ لیا جائے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مارچ کے آخر میں این بی سی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر بات چیت سے انکار کیا تو وہ اس پر ’بے مثال فوجی حملہ‘ کریں گے۔