Iran’s blunt reply to America: ایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا امریکہ کو دو ٹوک، کہا- ہم اپنے جوہری حقوق سے نہیں ہوں گے دستبردار
ٹرمپ نے تہران اور عالمی طاقتوں کے درمیان 2015 کے معاہدے سے خود کو (امریکہ) الگ کر لیا ہے۔ مغربی ممالک کا خیال ہے کہ اب 2015 کا معاہدہ تقریباً غیر فعال ہونے کے بعد ایران نے اپنا جوہری پروگرام تیز کر دیا ہے اور اس کا مقصد ہتھیار بنانا ہے جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ یہ مکمل طور پر شہری مقاصد کے لیے ہے۔
Iran’s Foreign Ministe arrives in Delhi: ہند-پاک کشیدگی کے درمیان دہلی پہنچے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی، 20ویں ہند-ایران مشترکہ کمیشن کی میٹنگ میں ہوں گے شامل
وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق ہند-ایران دوستی معاہدے پر دستخط کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد ہونے والے مشترکہ کمیشن کی میٹنگ میں دونوں ممالک کے درمیان باہمی دلچسپی کے امور اور دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے آگے بڑھنے کے راستے کا جائزہ لیا جائے گا۔
Iran-US talks in Oman: عمان میں ایران-امریکہ مذاکرات، تہران نے کہا- معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے بشرطیکہ…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مارچ کے آخر میں این بی سی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر بات چیت سے انکار کیا تو وہ اس پر ’بے مثال فوجی حملہ‘ کریں گے۔





