عمان میں ایران-امریکہ مذاکرات
مسقط: ایران اور امریکہ ہفتے کے روز عمان میں ’ بلاواسطہ اعلیٰ سطحی مذاکرات‘ کر رہے ہیں۔ تہران نے زور دے کر کہا ہے کہ بات چیت صرف جوہری مدعوں پر مرکوز رہے گی۔ ایرانی میڈیا نے ہفتے کے روز اطلاع دی ہے کہ یہ مذاکرات عمانی وزیر خارجہ بدر البوسیدی کی ثالثی میں ہوں گے۔ ایران کی تسنیم خبر رساں ایجنسی نے رپورٹ کیا، ’’ایران نے بارہا اس بات پر زور دیا کہ وہ ان مذاکرات میں دھمکیوں کو قبول نہیں کرے گا۔‘‘
ایرانی وزیر خارجہ سعید عباس عراقچی نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت ایک معاہدے تک پہنچ سکتی ہے بشرطیکہ واشنگٹن ’ضروری اور مناسب‘ سیاسی عزم کا مظاہرہ کرے۔ اراغچی مسقط مذاکرات میں ملکی وفد کی قیادت کریں گے۔ امریکہ کے خصوصی ایلچی برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف امریکہ کے نمائندے ہوں گے۔
ایرنا نیوز ایجنسی نے ہفتے کے روز عراقچی کے حوالے سے بتایا، ’’اگر دوسرا فریق اسی سطح کے نقطہ نظر کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آتا ہے، تو یہ ایک ایسا موقع ہوگا جو مذاکرات کے لیے ایک راستہ طے کرے گا۔‘‘
عراقچی یہ بات کہتے رہے ہیں کہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر ’پرامن اور جائز‘ ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران اپنی جوہری سرگرمیوں کے بارے میں موجود کسی بھی ابہام کو دور کرنے کے لیے تیار ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مارچ کے آخر میں این بی سی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر بات چیت سے انکار کیا تو وہ اس پر ’بے مثال فوجی حملہ‘ کریں گے۔
ایران نے 2015 میں عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدے پر دستخط کیے تھے، جسے باضابطہ طور پر مشترکہ جامع پلان آف ایکشن (JCPOA) کہا جاتا ہے۔ جے سی پی او اے کو ایران نیوکلیئر ڈیل یا ایران ڈیل کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اس کے تحت ایران نے پابندیوں میں ریلیف اور دیگر دفعات کے بدلے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔
اس معاہدے کو 14 جولائی 2015 کو ویانا میں ایران، P5+1 (اقوام متحدہ کے پانچ مستقل ارکان – چین، فرانس، روس، برطانیہ، امریکہ – علاوہ جرمنی) اور یورپی یونین کے درمیان حتمی شکل دی گئی۔ امریکہ نے 2018 میں اس معاہدے سے دستبرداری اختیار کی اور ’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ کی پالیسی کے تحت پابندیاں عائد کیں۔ جے سی پی او اے کو دوبارہ نافذ کرنے کے لیے بات چیت اپریل 2021 میں ویانا، آسٹریا میں شروع ہوئی۔ حالانکہ، کوئی قابل ذکر کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
