Bharat Express DD Free Dish

Iran-US

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور برینٹ کروڈ کی قیمت 80 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔ اگر یہ تیزی برقرار رہی تو بھارت میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، جبکہ درآمدی بل اور تجارتی خسارے میں بھی اضافے کا خدشہ ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ 28 فروری کو ایرانی سرزمین پر اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنی نگرانی اور کنٹرول مزید سخت کر دیا ہے۔ اس کے تحت اسرائیل اور امریکہ سے وابستہ یا ان سے منسلک بحری جہازوں کی محفوظ آمد و رفت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

دوسری جانب ایران کے شمال مشرقی شہر مشہد میں درجنوں افراد نے وزارتِ خارجہ کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے خلاف نعرے لگائے اور استعفے کا مطالبہ کیا۔ یہ احتجاج اس وقت سامنے آیا جب عباس عراقچی نے سرکاری ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ مجوزہ معاہدے میں ایران کی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے کی شقیں شامل ہیں۔

امریکہ سے واپس آنے والے اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے ایران کو 60 دن کا الٹی میٹم دے دیا ہے۔ اسرائیل نے واضح طور پرکہا ہے کہ ایران دوماہ کے اندرامریکہ سے ڈیل کرے اوراپنی افزودہ یورینیم تلف کرے ورنہ تباہی ہوگی۔

حالانکہ، ٹرمپ ایران کے ساتھ ایک ایسے معاہدے سے گریز کرنا چاہتے ہیں جو جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن (JCPOA) کی طرح ہو، جس پر باراک اوباما کے دور میں اتفاق ہوا تھا۔ اس میں یورپی یونین اور چین بھی شامل تھے۔ ٹرمپ نے 2018 میں جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن سے دستبرداری اختیار کی اور تہران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مارچ کے آخر میں این بی سی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر بات چیت سے انکار کیا تو وہ اس پر ’بے مثال فوجی حملہ‘ کریں گے۔