Bharat Express DD Free Dish

Iran- US War: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایران نے ان شرط کو ماننے سے کیا انکار، امریکہ نے کہا -بنیادی مسئلے سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا

ایران اور امریکہ کے درمیان پیغامات کا تبادلہ پاکستان کے ذریعے ہو رہا ہے، قابل ذکر بات یہ ہے کہ  اب تک دونوں ممالک کے درمیان کسی ٹھوس نتیجے پر اتفاق نہیں ہو سکا۔ امریکہ کا مطالبہ ہے کہ ایران آئندہ بیس سال کے لیے اپنے جوہری پروگرام کو معطل کرے اور اپنے پاس موجود افزودہ یورینیم کا ذخیرہ حوالے کرے،

نئی دہلی : مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایران نے ایک اہم سفارتی پیشکش سامنے رکھی ہے، جس نے امریکہ میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔ تہران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ عالمی تجارت کے لیے کھولنے پر آمادگی ظاہر کی ہے،قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس کے ساتھ ایسی شرائط عائد کی گئی ہیں، جنہوں نے واشنگٹن کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔رپورٹس کے مطابق ایران نے تجویز دی ہے کہ اگر امریکہ اس پر عائد تمام اقتصادی پابندیاں اور ناکہ بندیاں ختم کر دے تو وہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بحال کر دے گا۔ یہ سمندری راستہ عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے، اور اس کی بندش یا رکاوٹ عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہےکہ اس پیشکش میں سب سے بڑا نکتہ یہ ہے کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر کسی بھی قسم کی فوری بات چیت کو مؤخر کرنے کی شرط رکھی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکی انتظامیہ نے اس پیشکش کو مسترد کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران ایک بار پھر پیچیدہ شرائط کے ذریعے اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے قومی سلامتی کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ایک اہم اجلاس میں واضح کر دیا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو نظر انداز کرتے ہوئے کسی بھی معاہدے کی طرف پیش رفت ممکن نہیں۔دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارک رویبو نے بھی سخت موقف اپناتے ہوئے کہا کہ ایران کی جوہری سرگرمیاں کسی بھی مذاکرات کا بنیادی محور ہیں۔ ان کے مطابق صرف آبنائے ہرمز کی بحالی کے بدلے جوہری خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ امریکی قیادت کا ماننا ہے کہ اگر ایران کی اس پیشکش کو قبول کر لیا گیا تو امریکہ اپنا سب سے اہم دباؤ کا ذریعہ کھو دے گا، کیونکہ پابندیوں کے خاتمے سے ایران کو معاشی فائدہ حاصل ہوگا اور وہ اپنے جوہری پروگرام کو بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رکھ سکے گا۔

اطلاعات کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان پیغامات کا تبادلہ پاکستان کے ذریعے ہو رہا ہے، قابل ذکر بات یہ ہے کہ  اب تک دونوں ممالک کے درمیان کسی ٹھوس نتیجے پر اتفاق نہیں ہو سکا۔ امریکہ کا مطالبہ ہے کہ ایران آئندہ بیس سال کے لیے اپنے جوہری پروگرام کو معطل کرے اور اپنے پاس موجود افزودہ یورینیم کا ذخیرہ حوالے کرے، جب کہ ایران اس شرط کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ماہرین کے مطابق یہ تعطل خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے اور کسی بھی ممکنہ معاہدے کو مشکل بنا سکتا ہے۔ صورتحال اس وقت ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں دونوں فریق اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں اور کسی درمیانی راستے کی تلاش جاری ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read