نئی دہلی: نئی دہلی میں برکس وزرائے خارجہ اجلاس کے اختتام کے بعد جمعہ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ تہران بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات کو بے حد اہمیت دیتا ہے اور خلیج فارس سے متعلق دونوں ممالک کے مفادات اور خدشات کافی حد تک یکساں ہیں۔
پی ایم اور جے شنکر سے اہم ملاقات
عباس عراقچی نے بتایا کہ اپنے بھارت دورے کے دوران انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے ملاقات کی۔ اس دوران دونوں ممالک کے درمیان متعدد اہم موضوعات پر تبادلہ خیال ہوا، جن میں آبنائے ہرمز اور مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال بھی شامل تھی۔ انہوں نے کہا، ’’کل میری وزیر اعظم مودی کے ساتھ مختصر لیکن بہت اچھی گفتگو ہوئی، جبکہ آج وزیر خارجہ جے شنکر کے ساتھ طویل ملاقات ہوئی۔ ہم نے تقریباً ہر اہم مسئلے پر بات کی، جن میں آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کی صورتحال بھی شامل ہے۔”
خلیج فارس سے متعلق یکساں مفادات
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران اور بھارت کے خیالات اس اہم خطے کے بارے میں کافی حد تک ایک جیسے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ہماری تشویشات اور مفادات یکساں ہیں، اسی لیے ہم اپنے بھارتی شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھیں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت آبنائے ہرمز کی صورتحال کافی پیچیدہ ہے اور ایران اس بات کی کوشش کر رہا ہے کہ بحری جہاز محفوظ طریقے سے گزر سکیں۔ ان کے مطابق حالات اسی وقت معمول پر آئیں گے جب خطے میں جاری جارحانہ کارروائیاں مکمل طور پر ختم ہو جائیں گی۔
جنگی حالات میں بھی رابطہ برقرار رہا
عباس عراقچی نے بتایا کہ مغربی ایشیا میں کشیدگی کے دوران ان کی اور جے شنکر کی مسلسل بات چیت ہوتی رہی۔ انہوں نے برکس وزرائے خارجہ اجلاس کے کامیاب انعقاد پر بھارتی حکومت کا شکریہ بھی ادا کیا۔ انہوں نے کہا، ’’میں بھارتی حکومت اور اپنے اچھے دوست وزیر جے شنکر کی جانب سے مجھے اور میرے وفد کو دی گئی گرمجوش مہمان نوازی کی قدر کرتا ہوں۔ ہمارے درمیان ذاتی اور پیشہ ورانہ تعلقات بہت اچھے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران، جب ان کے ملک کے خلاف جنگی اور جارحانہ کارروائیاں جاری تھیں، تب بھی دونوں ممالک کے درمیان رابطے برقرار رہے۔
بھارت اور ایران دو قدیم تہذیبیں
ایرانی وزیر خارجہ نے بھارت اور ایران کے تعلقات کو مضبوط قرار دیتے ہوئے کہا کہ تہران دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کو مزید آگے بڑھانے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ایران اور بھارت دو قدیم تہذیبیں ہیں، جن کے درمیان ہمیشہ سے اچھے تعلقات رہے ہیں۔ ہم نے ایک دوسرے کی ثقافتی روایات کا تبادلہ کیا ہے۔ ہمارے درمیان تجارت، معیشت اور سیاسی شعبوں میں بھی مضبوط تعاون موجود ہے۔” انہوں نے کہا کہ ایران باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر بھارت کے ساتھ اپنے دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے۔
ایران کے امریکہ اور اسرائیل پر الزامات
عباس عراقچی نے کہا کہ ایران ’جارحانہ کارروائیوں‘ کا شکار ہوا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اور اسرائیل نے بغیر کسی اشتعال کے ایران کے خلاف حملہ کیا۔ انہوں نے کہا، ’’یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب ہم امریکہ کے ساتھ مذاکرات کر رہے تھے۔ یہ دوسری بار تھا جب ہم نے سفارتی بات چیت شروع کی اور عین مذاکرات کے دوران حملہ کر دیا گیا، جو انتہائی افسوسناک ہے۔”
بھارت کی ہمدردی اور انسانی امداد پر شکریہ
ایرانی وزیر خارجہ نے ان تمام ممالک کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان حملوں کی مذمت کی۔ انہوں نے بھارتی حکومت اور عوام کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے ایرانی عوام کے ساتھ یکجہتی اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا، ’’ہم بھارتی حکومت کی انسانی امداد کے لیے بھی شکر گزار ہیں۔ اس تعاون اور ہمدردی نے ہمیں بے حد حوصلہ دیا ہے۔”
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔





