Bharat Express DD Free Dish

BRICS

برکس (BRICS) کی 18ویں سربراہی کانفرنس میں، بھارت نے ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان جاری اختلافات کو حل کراتے ہوئے ’نئی دہلی اعلامیہ‘ کی متفقہ منظوری میں کامیابی کے ساتھ کلیدی کردار ادا کیا۔ یہ بھارت کے سفارتی اثر و رسوخ کا مظہر ہے۔

نئے کسٹمز معاہدے سے کلیئرنس میں تاخیر کم ہونے کی امید، اے ای او پروگرام اور ڈیجیٹل جانچ سے برآمد کنندگان کا وقت اور لاجسٹکس اخراجات دونوں بچیں گے

پی ایچ ڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (PHDCCI) کے مطابق برکس نئی دہلی اعلامیہ بھارت کی برآمدات، ایم ایس ایم ایز، مینوفیکچرنگ، سرمایہ کاری اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرسکتا ہے۔

پیوش گوئل نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کے وژن کے مطابق بھارت برکس خاندان کے تمام رکن ممالک کے ساتھ اپنی شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت صرف مذاکرات تک محدود نہیں رہنا چاہتا بلکہ ان مباحث کو عملی نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے سرگرم ہے، تاکہ تمام رکن ممالک کی مشترکہ ترقی، خوشحالی اور صنعتی پیش رفت کو نئی رفتار مل سکے۔

دو روزہ اجلاس میں تین بنیادی موضوعات پر تفصیلی گفتگو ہوگی۔ ان میں تخلیقی معیشت، ثقافتی و تخلیقی صنعتیں، کاپی رائٹ اور مصنوعی ذہانت (AI)، ثقافتی ورثے کا تحفظ اور ثقافتی املاک کی واپسی، نیز ثقافت، موسمیاتی تبدیلی اور پائیدار ترقی شامل ہیں۔

منوہر لال کھٹر نے کہا کہ بھارت نے بجلی کی رسائی میں اضافہ، غیر حیاتیاتی ایندھن پر مبنی بجلی کی پیداواری صلاحیت میں توسیع اور قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کے میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

وزیراعظم سے ملاقات سے قبل غدیر نظامی پور نے ہندوستان کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال سے بھی ملاقات کی، جس میں باہمی دلچسپی کے مختلف علاقائی اور سلامتی سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

اجلاس میں برازیل، روس، چین، جنوبی افریقہ، متحدہ عرب امارات، مصر، ایران، انڈونیشیا اور ایتھوپیا سمیت مختلف برکس ممالک کے اعلیٰ سطحی نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کے موقع پر قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال نے کئی شراکت دار ممالک کے نمائندوں کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں بھی کیں، جن میں سلامتی، علاقائی تعاون اور مشترکہ مفادات سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن رواں سال 12 اور 13 ستمبر کو نئی دہلی میں منعقد ہونے والے برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت کا دورہ کریں گے۔ روسی حکومت نے اس بات کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔ دوسری جانب وزیر اعظم نریندر مودی بھی اس سال کے آخر میں روس کا دورہ کریں گے، جہاں دونوں ممالک کے درمیان سالانہ سربراہ اجلاس منعقد ہونے کی توقع ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے بھارت اور ایران کے تعلقات کو مضبوط قرار دیتے ہوئے کہا کہ تہران دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کو مزید آگے بڑھانے کے لیے پُرعزم ہے۔