Bharat Express DD Free Dish

Contempt proceedings against Nishikant Dubey: نشی کانت دوبے کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ دائر کرنے کیلئے ہماری اجازت کی ضرورت نہیں ہے:سپریم کورٹ

بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے سپریم کورٹ پر بیان دینے کے بعدبڑی پریشانی میں پھنستے چلے جارہے ہیں۔ اب خیال کیا جا رہا ہے کہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع ہو سکتی ہے، اس حوالے سے اٹارنی جنرل کو خط بھی لکھ دیا گیا ہے۔

بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے کا  سپریم کورٹ  پر دیا گیا متنازعہ بیان نیا رخ اختیار کرتا چلا جارہا ہے۔ پیر کو سپریم کورٹ میں دوبے کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا مطالبہ کرنے والی عرضی پر سماعت ہوئی۔ اس دوران وکیل نے کہا کہ نشی کانت دوبے نے اس عدالت اور سی جے آئی کے خلاف بیانات دیئے گئے ہیں۔سپریم کورٹ کے سامنے نشی کانت دوبے کے بیانات کا بھی ذکر کیا گیا۔ اس پر جسٹس بی آر گوائی نے پوچھا کہ آپ کیا چاہتے ہیں؟ جس پر وکیل نے کہا کہ میں توہین عدالت کا مقدمہ درج کرنا چاہتا ہوں۔ جسٹس گوائی نے دو ٹوک جواب دیتے ہوئے کہا کہ پھر آپ فائل کریں۔ آپ کو ہماری اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ کو اٹارنی جنرل سے منظوری لینا ہوگی۔

اس سے قبل ایڈوکیٹ نریندر مشرا کے ذریعہ سی جے آئی اور سپریم کورٹ کے ججوں کو خط لکھا گیا تھا۔ اس خط میں نشی کانت کے خلاف مناسب کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ملک کی سپریم کورٹ کے خلاف دوبے کے عوامی بیانات توہین آمیز اور اشتعال انگیز ہیں۔ یہ بیانات غلط، لاپرواہی اور بدنیتی پر مبنی ہیں اور مجرمانہ توہین کے مترادف ہیں۔ یہ بیانات عدلیہ کو دھمکانے، عوامی انتشار کو ہوا دینے اور اس ادارے کو بدنام کرنے کی دانستہ کوشش ہے جس کا مقصد آئین کی حفاظت کرنا ہے۔بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے سپریم کورٹ پر بیان دینے کے بعدبڑی پریشانی میں پھنستے چلے جارہے ہیں۔ اب خیال کیا جا رہا ہے کہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع ہو سکتی ہے، اس حوالے سے اٹارنی جنرل کو خط بھی لکھ دیا گیا ہے۔ اب جو بیان دیا گیا ہے اس کے مطابق ماہرین کا ماننا ہے کہ اس بات کا پورا امکان ہے کہ نشی کانت دوبے کے خلاف کوئی کارروائی ہو سکتی ہے اور ان کی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

قانون کیا کہتا ہے؟

درحقیقت، قانون کہتا ہے کہ سپریم کورٹ کی توہین کی کارروائی توہین عدالت ایکٹ 1971 کے سیکشن پندرہ بی کے تحت ممکن ہے اگر کارروائی کی اجازت اٹارنی جنرل یا سالیسٹر جنرل سے حاصل کی جائے اور منظوری مل جاتے تب یہ کارروائی ہوسکتی ہے۔ آپ کو بتادیں  کہ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے نے سپریم کورٹ کے کچھ حالیہ فیصلوں پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ عدالت حکومت کے کام میں مداخلت کر رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read