Bharat Express DD Free Dish

BJP MP Nishikant Dubey

اپوزیشن کے شدید ہنگامے کے باعث لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔ اپوزیشن ارکان پیپر لیک معاملے پر حکومت سے جواب طلب کر رہے ہیں اور وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ دہرا رہے ہیں۔

نشی کانت دوبے اپنے اس دعوے کے بعد سے مشکل میں آگئے ہیں۔ ٹنّویادو اور اکھلیش یادو کو رشتہ دار بتانے کے بعد سے سماجوادی پارٹی کے لیڈر نشی کانت دوبے سے خاص ناراض ہیں۔ اسی سے متعلق سماجوادی پارٹی کے لیڈر منوج کاکا ایف آئی آر درج کروانے کے لئے لکھنو کے حضرت گنج تھانے پہنچ گئے ہیں۔ دوسری تحریر اٹاوہ میں درج کرائی گئی ہے۔

پاناما پیپرز کا معاملہ 3 اپریل 2016 کو اُس وقت منظرعام پر آیا تھا، جب جرمن اخبار ’’زیتوشے زائتونگ‘‘ نے دنیا بھر میں ٹیکس چوری اور مالی بے ضابطگیوں سے متعلق ہزاروں دستاویزات جاری کی تھیں۔

سابق مرکزی وزیرراجیوپرتاپ روڈی نے دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب کے انتخابات میں سنجیوبالیان کوشکست دی ہے۔ نشی کانت دوبے نے بالیان کی شکست کواپنی جیت قراردیتے ہوئے کہا کہ ووٹنگ میں کانگریس لیڈران کی شرکت ان کی بڑی کامیابی ہے۔ حالانکہ روڈی 100 سے زیادہ ووٹوں سے جیت گئے ہیں۔

وہیں منوج تیواری نے اسے ایک کٹھن تپسیا بتایا اور لکھا کہ ’’سلطان گنج سے دیوگھر تک پیدل پانی لے جانا ایک بڑی تپسیا ہے۔‘‘

نشیکانت دوبے نے کہا: "فلموں میں قادر خان جی کا کردار ادا کر رہا ہے اپوزیشن۔ ابھی کچھ دن پہلے ہی انہیں ہٹانے کی قرارداد لائے تھے، کم از کم شخص کی صحت کا تو خیال کریں۔"

مراٹھی-ہندی تنازعہ میں راج ٹھاکرے اورنشی کانت دوبے آمنے سامنے آگئے ہیں۔ راج ٹھاکرے کے سخت جواب پر دوبے نے طنزکستے ہوئے کہا کہ میں نے راج ٹھاکرے کو ہندی سکھا دی۔

راج ٹھاکرے نے مہایوتی حکومت کو گھیرتے ہوئے کہاکہ دیویندر فڑنویس کیسا اسکرپٹ رائٹر ہے جو پہلے جی آر جاری کرتا ہے اور بعد میں اسے واپس لے لیتا ہے۔ میں آپ سب سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ جہاں بھی جائیں، آپ کو صرف مراٹھی میں ہی بات کرنی چاہیے۔

آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے 75 سال کی عمر میں ریٹائرمنٹ سے متعلق بیان پر نشی کانت دوبے نے کہا کہ آج مودی کو بی جے پی کی ضرورت نہیں ہے بلکہ بی جے پی کو مودی کی ضرورت ہے۔ آپ اتفاق کریں یا اختلاف کریں لیکن ایک سیاسی جماعت شخصیت پرستی کی بنیاد پر چلتی ہے۔

مہاراشٹرکے اندرجاری زبان تنازعہ کے درمیان بی جے پی رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے کا ایک بیان سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے ہندی زبان بولنے والے لوگوں کومارنے والوں سے کہا کہ اگر ہمت ہے تواردوزبان والوں کومارکردکھاؤ۔