Bharat Express DD Free Dish

Nishikant Dubey Calls for Probe Into Offshore Leaks: بی جے پی ایم پی نشی کانت دوبے نے کیا پاناما پیپرز اور پیراڈائز پیپرز کے معاملے میں فوری کارروائی کا مطالبہ، کہا-نقاب پوشوں کو بے نقاب کرے حکومت

پاناما پیپرز کا معاملہ 3 اپریل 2016 کو اُس وقت منظرعام پر آیا تھا، جب جرمن اخبار ’’زیتوشے زائتونگ‘‘ نے دنیا بھر میں ٹیکس چوری اور مالی بے ضابطگیوں سے متعلق ہزاروں دستاویزات جاری کی تھیں۔

بی جے پی کے رکن پارلیمان نشی کانت دوبے نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاناما پیپرز اور پیراڈائز پیپرز کے معاملے میں فوری کارروائی کرے اور ان افراد کو بے نقاب کرے جو ’’نقاب کے پیچھے چھپے ہوئے ہیں‘‘۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں نشی کانت دوبے نے لکھا کہ ’’برطانوی وزیرِ اعظم کیمرون نے تسلیم کیا ہے کہ پاناما پیپرز میں درج باتیں سچ ہیں۔ ہندوستانی حکومت کو انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے ذریعے ان معاملات پر کارروائی کرنی چاہیے اور ان چہروں کو سامنے لانا چاہیے جو نقاب کے پیچھے چھپے ہوئے ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ پاناما پیپرز کا معاملہ 3 اپریل 2016 کو اُس وقت منظرعام پر آیا تھا، جب جرمن اخبار ’’زیتوشے زائتونگ‘‘ نے دنیا بھر میں ٹیکس چوری اور مالی بے ضابطگیوں سے متعلق ہزاروں دستاویزات جاری کی تھیں۔ ان میں تقریباً 500 ہندوستانیوں کے نام بھی شامل تھے، جن میں بالی ووڈ اداکار امیتابھ بچن، ان کی بہو ایشوریہ رائے بچن، اداکار اجے دیوگن اور تاجر وجے مالیا شامل ہیں۔ امیتابھ بچن نے اپنے خلاف الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں نے بیرونِ ملک رقم ہندوستانی قوانین کے تحت ہی بھیجی ہے۔

اسی نوعیت کا دوسرا بڑا انکشاف 2017 میں سامنے آیا تھا، جسے ’’پیراڈائز پیپرز‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس میں 714 ہندوستانیوں کے آف شور اکاؤنٹس کا انکشاف ہوا اور ہندوستان دنیا کے اُن 20 ممالک میں شامل ہوا جن کے سب سے زیادہ نام اس فہرست میں تھے۔ 2017 میں اس وقت کے وزیرِ خزانہ ارون جیٹلی نے پیراڈائز پیپرز کی جانچ پاناما پیپرز کے طرز پر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ 2021 میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے اداکارہ ایشوریہ رائے بچن سے پانچ گھنٹے تک پوچھ گچھ کی تھی اور ان سے 2004 سے اب تک کے غیر ملکی ترسیلات کی تفصیلات طلب کی گئی تھیں۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read