بی جے پی رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے اور راج ٹھاکرے میں زبانی جنگ مزید تیز ہوگئی ہے۔
مراٹھی اور ہندی تنازعہ پراب سیاسی بیان بازی مزید تلخ ہوتی جا رہی ہے۔ حال ہی میں ایم این ایس سربراہ راج ٹھاکرے نے بی جے پی رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے پرسخت پلٹ وارکیا ہے، جس پر ایک بارپھرسے نشی کانت دوبے نے جواب دیا ہے۔ راج ٹھاکرے نے نشی کانت دوبے کے ’پٹخ پٹخ کرمارنے والے‘ بیان پرجواب دیتے ہوئے کہا، ”توہمیں مارے گا دوبے؟ تو ممبئی آجا، سمندر میں ڈوبا-ڈوباکر ماریں گے۔‘‘ اب اس پر نشی کانت دوبے نے پھر ردعمل دیتے ہوئے راج ٹھاکرے کا وہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا- ”میں نے راج ٹھاکرے کو ہندی سکھا دی؟‘‘
کیسے شروع ہوا تنازعہ؟
آپ کو بتا دیں کہ زبان تنازعہ پہلے تو ایک دوکاندار کے مراٹھی نہ بولنے پراس کے ساتھ ایم این ایس کارکنان کے ذریعہ مارپیٹ کرنے پر شروع ہوا تھا۔ اس کے بعد بی جے پی رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے نے جھارکھنڈ کے گوڈا سے بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگرہمت ہے، تو مہاراشٹرمیں اردوبولنے والوں کے خلاف بول کردکھاؤ۔ دوبے نے یہ بھی کہا تھا، ”ہندی کی مخالفت کرنے والوں کو پٹخ پٹخ کرماریں گے۔ “
मैंने राज ठाकरे को हिंदी सिखा दी ? https://t.co/5YpM1SrzDt
— Dr Nishikant Dubey (@nishikant_dubey) July 18, 2025
انہوں نے ٹھاکرے برادران (ادھو ٹھاکرے اورراج ٹھاکرے) کوراست نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ اپنے گھرمیں توکتا بھی شیرہوتا ہے۔ اس بیان کے بعد تنازعہ کافی بھڑک گیا اورراج ٹھاکرے کی طرف سے سخت ردعمل دیا تھا۔
راج ٹھاکرے نے کیا کہا تھا؟
نشی کانت دوبے کے اس بیان پر کچھ دنوں بعد راج ٹھاکرے نے بے حد تلخ اندازمیں کہا تھا، ”ایک رکن پارلیمنٹ کہتا ہے کہ پٹخ پٹخ کر مارے گا، تو ممبئی آجا، تجھے سمندرمیں ڈوبا ڈوباکرماریں گے۔“ راج ٹھاکرے نے سوال اٹھایا، ”کیا دوبے پرکوئی کیس ہو؟ تم 56 انچ کی چھاتی لے کرگھومتے ہو؟“ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگرمراٹھی کی توہین ہوئی تو”گال اورہاتھ کی لڑائی ضرورہوگی۔“
اس بیان کے بعد پورے مہاراشٹرمیں سیاسی درجہ حرارت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ وہیں اب نشی کانت دوبے نے زیادہ وقت نہ لگاتے ہوئے فوراً ایکس پراپنا ردعمل تودے دیا ہے، لیکن ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔ اس بیان بازی کے بعد سے لگتا ہے کہ یہ معاملہ مزید طول پکڑسکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


