Bharat Express DD Free Dish

BJP MP Nishikant Dubey

یہ دلیل دی گئی کہ سیاسی جماعتیں اور رہنما نفرت انگیز تقاریر اور اشتعال انگیز  تبصرے پر عدلیہ اور ججوں کو بھی نہیں بخشتے ہیں۔ اس لیے انہوں  نے دوبے کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کا مطالبہ کیاہے۔

پہلگام میں دہشت گردوں کے حملے کے بعد بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے نےگلمرگ میں اپنی شادی کی 25ویں سالگرہ کی تقریب منائی تھی، جس میں کئی سیاستدانوں کو مدعو کیا گیا تھا۔ تقریب کے لیے انتہائی سخت سیکورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔ اس کے برعکس، پہلگام میں سیاحوں کے تحفظ کے لیے اتنے ٹھوس انتظامات نظر نہیں آئے، جس نے عوامی سطح پر سیکورٹی کی ترجیحات پر سوالات اٹھا دیے۔

بی جے پی کے اراکین پارلیمنٹ کے الزم پر اے آئی ایم آئی ایم چیف اسدالدین اویسی نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پی ایم مودی کو عدالتوں کو دھمکی دینے والوں کو روکنا چاہئے۔ وہیں کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے مرکزی حکومت  پر سپریم کورٹ کو کمزور کرنے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا۔

سابق چیف الیکشن کمشنر(سی ای سی) ایس وائی قریشی نے بی جے پی رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے کے بیان پرجوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگوں کے لئے مذہبی شناخت ہی ان کی نفرت کی سیاست کو آگے بڑھانے کی بنیادی بنیاد ہے۔

بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے سپریم کورٹ پر بیان دینے کے بعدبڑی پریشانی میں پھنستے چلے جارہے ہیں۔ اب خیال کیا جا رہا ہے کہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع ہو سکتی ہے، اس حوالے سے اٹارنی جنرل کو خط بھی لکھ دیا گیا ہے۔

دوبے نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ انھوں نے چیف جسٹس آف انڈیا کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور صاف لفظوں میں کہا ’’اس ملک میں جتنی بھی خانہ جنگی ہو رہی ہے اس کے ذمہ دار یہاں کے چیف جسٹس آف انڈیا سنجیو کھنہ صاحب ہیں۔‘‘