نائب صدر جگدیپ دھنکھر کے بعد بی جے پی کے رکن پارلیمان نشی کانت دوبے نے بھی ہفتہ کو سپریم کورٹ کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر سپریم کورٹ کو ہی قانون سازی کرنی ہے تو پارلیمنٹ کو بند کر دینا چاہیے۔ دوبے نے سپریم کورٹ پر مزید حملہ بولتے ہوئے اے این آئی سے بات کی اور کہا ’’ہندوستان میں مذہبی جنگ بھڑکانے کے پیچھے پیچھے صرف اور صرف سپریم کورٹ کا کردار ہے۔‘‘ دوبے نے اور کہا کہ ’’سپریم کورٹ اپنی حد پار کر رہا ہے۔‘‘ دوبے کا یہ تبصرہ وقف (ترمیمی) قانون کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرنے والی متعدد درخواستوں پر عدالت میں جاری سماعت کے درمیان آیا ہے، جسے اس ماہ کے پہلے ہفتے میں پارلیمنٹ نے منظور کیا تھا۔ ساتھ ہی صدر اور گورنرز کے اختیارات کے حوالے سے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کو بھی انھوں نے نشانہ بنایا ہے۔
क़ानून यदि सुप्रीम कोर्ट ही बनाएगा तो संसद भवन बंद कर देना चाहिये
— Dr Nishikant Dubey (@nishikant_dubey) April 19, 2025
اے این آئی سے بات کرتے ہوئے نشی کانت دوبے نے کہا ’’دفعہ 377 کے تحت ہم جنسیت ایک بڑا جرم تھا۔ ابھی امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ نے بھی یہی کہا ہے کہ اس دنیا میں صرف دو ہی جنس ہیں۔ پوری عیسائی برادری، ہندو برادری، مسلم برادری اور دیگر تمام مذہبی برادریوں میں اسے جرم مانا جاتا ہے، لیکن سپریم کورٹ نے اس دفعہ کو ختم کر دیا۔ ہم نے آئی ٹی قانون بنایا، سپریم کورٹ نے اسے ختم کر دیا۔ میں دفعہ 141 کا بہت گہرائی سے مطالعہ کیا ہے۔ اس کے مطابق ہم (پارلیمنٹ) جو قانون بناتے ہیں وہ نچلی عدالت سے لے کر عدالتِ عظمیٰ تک پر نافذ ہوتا ہے۔ وہیں دفعہ 368 کے مطابق پارلیمنٹ کو قانون بنانے کا اختیار ہے، سپریم کو محض اس کی تشریح کا اختیار ہے۔‘‘
دوبے نے اسی پر پس نہیں کیا بلکہ مزید کہا ’’وہ بتا رہے ہیں کہ تین مہینے میں صدر اور گورنر کو کیا کرنا ہے۔۔۔۔۔ جب رام مندر کا معاملہ ہوتا ہے تو آپ کاغذ مانگتے ہیں، جب متھرا میں کرشن جنم بھومی کا معاملہ آتا ہے تو کہتے ہیں کہ کاغذ دکھاؤ۔۔۔۔اور آج آپ مغلوں کے آنے کے بعد جو مسجدیں بنی ہیں ان کے لیے کہتے ہیں کہ ان کے کاغذ کیسے دکھائے جا سکتے ہیں۔ اس ملک میں مذہبی جنگ بھڑکانے کے لیے صرف اور صرف سپریم کورٹ ذمے دار ہے۔۔۔۔سپریم کورٹ اپنی حد پار کر رہا ہے۔ سپریم کورٹ کی حد یہ ہے کہ ہندوستان کے آئین کی تشریح کرے۔ اور اگر ہر چیز کے لیے سپریم کورٹ ہی جانا ہے تو پھر پارلیمنٹ کا کوئی مطلب نہیں ہے، اسے بند کر دینا چاہیے۔‘‘
#WATCH | Delhi: “…Supreme Court is responsible for inciting religious wars in the country. The Supreme Court is going beyond its limits. If one has to go to the Supreme Court for everything, then Parliament and State Assembly should be shut…” says BJP MP Nishikant Dubey pic.twitter.com/ObnVcpDYQf
— ANI (@ANI) April 19, 2025
دوبے نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ انھوں نے چیف جسٹس آف انڈیا کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور صاف لفظوں میں کہا ’’اس ملک میں جتنی بھی خانہ جنگی ہو رہی ہے اس کے ذمہ دار یہاں کے چیف جسٹس آف انڈیا سنجیو کھنہ صاحب ہیں۔‘‘
#WATCH | Delhi: BJP MP Nishikant Dubey says “Chief Justice of India, Sanjiv Khanna is responsible for all the civil wars happening in this country” https://t.co/EqRdbjJqIE pic.twitter.com/LqEfuLWlSr
— ANI (@ANI) April 19, 2025
دوبے کے اس بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ایم ٹیگور نے کہا ہے کہ ’’یہ سپریم کورٹ کے خلاف ہتک آمیز بیان ہے۔ نشی کانت دوبے ایک ایسے شخص ہیں جو دوسرے تمام اداروں کی سبوتاژی میں مصروف رہتے ہیں۔ اب انھوں نے سپریم کورٹ پر حملہ کیا ہے۔ مجھے امید ہے کہ سپریم کورٹ کے جج اس کا نوٹس لیں گے کیوں کہ وہ پارلیمنٹ میں نہیں بلکہ پارلیمنٹ کے باہر ایسا بول رہے ہیں۔ سپریم کورٹ پر ان کا حملہ قابل قبول نہیں ہے۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



