Bharat Express DD Free Dish

CJI Sanjiv Khanna

اپنی الوداعی تقریب میں جسٹس سنجیو کھنہ نے کہا کہ میں نے گزشتہ 50 سالوں میں کئی الوداعی تقاریب میں حصہ لیا، لیکن آج میں بہت خوش ہوں۔ ایک وقت کافی چیلنج رہا، لیکن آج میں خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ میں نے ہندوستان کے چیف جسٹس کے طورپر ریٹائرہونے کا فخرحاصل کیا۔ یہ حقیقت میں ایک خواب پورا ہونے جیسا ہے۔

سپریم کورٹ نے بی جے پی رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے کے ذریعہ چیف جسٹس پرکئے گئے بے حد غیرذمہ دارانہ تبصرہ کی سخت مذمت کی ہے۔ عدالت نے اسے توجہ مبذول کرانے کی کوشش قراردیا تاہم توہین عدالت کی کارروائی سے انکارکرتے ہوئے کہا کہ عدالتیں اتنی نازک نہیں ہیں کہ وہ مضحکہ خیز بیانات سے مرجھا جائیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو سی بی آئی ڈائریکٹر کی تقرری کرنے والی کمیٹی کی میٹنگ کی صدارت کی، جس میں لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اور چیف جسٹس آف انڈیا سنجیو کھنہ نے بھی شرکت کی۔

یہ دلیل دی گئی کہ سیاسی جماعتیں اور رہنما نفرت انگیز تقاریر اور اشتعال انگیز  تبصرے پر عدلیہ اور ججوں کو بھی نہیں بخشتے ہیں۔ اس لیے انہوں  نے دوبے کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کا مطالبہ کیاہے۔

وقف ترمیمی قانون کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر آج دوسری بار سماعت ہونے والی تھی لیکن چیف جسٹس سنجیو کھنہ کی ریٹائرمنٹ کو دیکھتے ہوئے اب اس معاملے کو جسٹس بی آر گوائی کی بنچ کے سپرد کردیا گیا ہے اور اس کیلئے نئی تاریخ 15 مئی متعین کی گئی ہے۔

دوبے نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ انھوں نے چیف جسٹس آف انڈیا کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور صاف لفظوں میں کہا ’’اس ملک میں جتنی بھی خانہ جنگی ہو رہی ہے اس کے ذمہ دار یہاں کے چیف جسٹس آف انڈیا سنجیو کھنہ صاحب ہیں۔‘‘

کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے وقف ترمیمی قانون پر سپریم کورٹ کے تبصروں کو آئینی تحفظات کی توثیق قرار دیا۔ عدالت عظمیٰ نے جائیدادوں کی حیثیت برقرار رکھنے کی اہم ہدایت جاری کی ہے

سپریم کورٹ نے تبصرہ کیاتھا کہ کوئی بھی جائیداد جسے عدالت نے وقف قرار دیا ہے، اسے غیر وقف نہیں سمجھا جائے گا، چاہے وہ وقف صارف نے حاصل کی ہو یا نہ ہو۔ سپریم کورٹ وقف ایکٹ سے متعلق تین سوالات پر فریقین کے دلائل سننے کے بعد عبوری حکم جاری کرے گی۔

مرکزی حکومت نے عدالت میں کیویٹ بھی داخل کیا ہے۔یہ ایک قسم کا قانونی نوٹس ہے جو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے دائر کیا جاتا ہے کہ اگر کوئی حکم صادر ہوتا ہے تو اس فریق کو سنا جاتا ہے۔

چیف جسٹس آف انڈیا سنجیو کھنہ نے اہم فیصلہ صادرکرتے ہوئے پچھلی سماعت پردیئے گئے اسٹے میں توسیع کردی، اس کے ساتھ ہی عدالت نے تازہ عرضداشتوں پرنوٹس جاری کرنے کی بجائے انہیں بطورمداخلت کاردرخواست داخل کرنے کی ہدایت دی۔