نئی دہلی: بی جے پی رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے نے راہل گاندھی پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس لیڈراب تک 100 انتخابات ہارچکے ہیں اورانہیں بھی اس بات کا احساس ہوگیا ہے کہ ان کے پاس عوامی حمایت نہیں ہے۔ انہوں نے طنزکرتے ہوئے کہا کہ راہل گاندھی کومعلوم ہے کہ وہ اپنی زندگی میں کبھی ملک کے وزیراعظم نہیں بن پائیں گے۔ اسی لیے اپوزیشن نے انہیں ایک دن کے لیے نقلی وزیراعظم بنا دیا ہے۔ اب وہ اسی میں خوش ہیں اور خوش رہیں گے۔
اپوزیشن کی سیاست پرسوال
نشی کانت دوبے نے یہ بیان اپوزیشن کی جانب سے پارلیمنٹ میں راہل گاندھی کووزیراعظم کے کردارمیں پیش کئے جانے کے حوالے سے دیا۔ انہوں نے کہا کہ پورا اپوزیشن جانتا ہے کہ گاندھی خاندان سے اب کوئی دوبارہ وزیر اعظم نہیں بننے والا۔ ایسے میں راہل گاندھی کوعلامتی طورپروزیراعظم بنا کراپوزیشن اپنی سیاست کررہا ہے۔
تحریک کرنے والوں پر بھی نشانہ
ملک میں نوجوانوں اورعام شہریوں کی آوازدبانے کے الزامات اوربنگلہ دیش میں اقتدارکی تبدیلی کے معاملے پربھی نشی کانت دوبے نے ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے نیہا بورا کا ذکرکرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ ایک ایسے سیاسی تنظیم کے طلبہ ونگ سے وابستہ ہیں، جس کی 1968 کی قرارداد میں بھارتی آئین کو جلانے اورجمہوری نظام حکومت کوقبول نہ کرنے جیسی باتیں کہی گئی تھیں۔ دوبے نے دعویٰ کیا کہ یہ تنظیم جمہوری طریقے کے بجائے ہتھیاروں کے زورپراقتدارحاصل کرنا چاہتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے پرشانت بھوشن، یوگیندریادو اورورندا کرات جیسے لوگوں پربھی تبصرہ کیا۔ بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ یہ تمام لوگ طویل عرصے سے مختلف تحریکوں میں حصہ لیتے رہے ہیں۔ 1990 کے بعد شاید ہی کوئی بڑا احتجاج یا تحریک ہوئی ہو، جس میں یہ لوگ شامل نہ رہے ہوں۔
جواہرلال نہروکی پالیسیوں پرسوال
نشی کانت دوبے نے اپنے بیان میں جواہرلال نہرو کی پالیسیوں پربھی سنگین سوال اٹھائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ نہروکسی بھی قیمت پروزیراعظم بننا چاہتے تھے اوراسی سیاسی خواہش کی وجہ سے ملک کے کئی اہم علاقوں کے بارے میں غلط فیصلے کئے گئے۔ انہوں نے سوال کیا کہ چٹگاوں، سلہٹ اورنوکھالی جیسے علاقوں کوپاکستان کے حصے میں جانے دینے کا فیصلہ کیوں لیا گیا؟ ان کا دعویٰ ہے کہ ان علاقوں کا تری پورہ کے اس وقت کے شاہی خاندان سے تعلق تھا اوروہاں کے حکمراں ان علاقوں کے بارے میں الگ رائے رکھتے تھے۔
سلہٹ ریفرنڈم اوربحرالاسلام کا ذکر
بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے سلہٹ میں ہونے والے ریفرنڈم اوربحرالاسلام کا بھی ذکرکیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بحرالاسلام کا مسلم لیگ سے تعلق تھا اورانہیں نوکھالی کی تشدد آمیزوارداتوں اورچٹگاوں سے جڑے واقعات میں اہم کردارادا کرنے والا بتایا۔ دوبے نے کانگریس پربھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بحرالاسلام کوکانگریس نے راجیہ سبھا کا رکن بنایا تھا۔ اس کے بعد وہ ہائی کورٹ کے جج بنے اورپھرسپریم کورٹ تک پہنچے۔ سپریم کورٹ سے ریٹائر ہونے کے بعد کانگریس نے انہیں دوبارہ راجیہ سبھا بھیجا۔
چٹگاوں پورٹ کو شمال مشرقی ہندوستان کی ترقی سے جوڑا
نشی کانت دوبے نے چٹگاوں بندرگاہ کوشمال مشرقی ہندوستان کی ترقی کے لحاظ سے انتہائی اہم قراردیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرآج شمال مشرق کے کئی علاقے ترقی کے معاملے میں پیچھے ہیں اوروہاں کے قدرتی وسائل کا مکمل استعمال نہیں ہوپا رہا ہے تواس کی ایک بڑی وجہ چٹگاوں پورٹ کا ہندوستان کے پاس نہ ہونا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شمال مشرقی ہندوستان میں معدنیات، گیس اوردیگر قدرتی وسائل کے کافی امکانات موجود ہیں، لیکن سمندرتک بہتر رسائی اورتجارتی سہولیات کی کمی کی وجہ سے ان سے مکمل فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا ہے۔ دوبے کے مطابق، اگرچٹگاوں بندرگاہ ہندوستان کے پاس ہوتی توشمال مشرقی علاقوں کی ترقی کونئی رفتارمل سکتی تھی۔
1946 کے نوکھالی قتل عام کا بھی اٹھایا معاملہ
اپنے بیان میں نشی کانت دوبے نے 1946 میں ہونے والے نوکھالی قتل عام کا بھی ذکرکیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی آزادی سے پہلے ہی نہروعبوری حکومت کے وزیراعظم بن گئے تھے۔ ان کے مطابق، نہرو2 ستمبر1946 کو عبوری حکومت کے سربراہ بنے تھے، جبکہ ہندوستان کوباضابطہ آزادی 15 اگست 1947 کوملی۔ دوبے نے الزام لگایا کہ مسلم لیگ کی ڈائریکٹ ایکشن کی سیاست کے بعد اکتوبر1946 میں نوکھالی میں ہندوؤں کے خلاف بڑے پیمانے پرتشدد ہوا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس قتل عام میں ایک ہی دن میں تقریباً 10 ہزارہندوؤں کوقتل کردیا گیا تھا۔ ان کا الزام ہے کہ اس وقت نہرو نے وزیراعظم کے طورپروہاں جانے کے بجائے مسلم لیگ کواپنی حکومت میں شامل کرنے پرزیادہ توجہ دی۔ نشی کانت دوبے نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ملک کی تاریخ کوصحیح طریقے سے دیکھا جائے اوران فیصلوں پرسوال اٹھائے جائیں، جن کے اثرات آج بھی شمال مشرقی ہندوستان پرنظرآتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

