امریکی ارب پتی ایلون مسک کی کمپنی ’اسٹار لنک‘ کی بھارت میں آمد کو لے کر جاری بحث کے درمیان بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ اور مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق پارلیمانی مستقل کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر نشی کانت دوبے نے مسک کو سخت جواب دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت ایک خودمختار اور مضبوط جمہوری ملک ہے، جو کسی بھی کارپوریٹ کمپنی یا سوشل میڈیا کے دباؤ میں آکر اپنی قومی سلامتی کی پالیسی میں تبدیلی نہیں کرے گا۔
وزارتوں نے سلامتی سے متعلق خدشات ظاہر کیے
پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین نشی کانت دوبے نے بتایا کہ وزارت داخلہ، وزارت دفاع اور متعدد مرکزی تفتیشی ایجنسیوں نے سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس اسٹار لنک سے وابستہ سنگین سلامتی کے خدشات کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ انہوں نے ایلون مسک کو یاد دلایا کہ یہ کوئی نیا معاملہ نہیں ہے۔ سال 2013-14 میں بھی اس وقت کی منموہن سنگھ حکومت نے ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی آف انڈیا (ٹرائی) کو سیٹلائٹ ٹیکنالوجی سے جڑے ایسے ہی سلامتی کے خطرات کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔ بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ بھارت پر الزامات لگانے سے پہلے ایلون مسک کو امریکہ کے غریب شہریوں کو سستی انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔
संसदीय समिति के अध्यक्ष होने के नाते हमारी कमिटि ने देश की सुरक्षा एजेंसियों के समक्ष आने वाले चुनौतियों को @elonmusk के स्टार लिंक से समझा है,रक्षा मंत्रालय,गृह मंत्रालय,हमारी जॉंच एजेंसी इन खतरों के ख़तरनाक खेल से प्रभावित हो रही है ।2013-14 में मनमोहन सिंह जी की सरकार ने @TRAI को इन खतरों की जानकारी दी थी ।पहले अपने देश अमेरिका में तो गरीब को सस्ते दामों पर कनेक्शन दे दीजिए,फिर आरोप प्रत्यारोप लगाइए,भारत एक स्वस्थ लोकतांत्रिक,संप्रभु राष्ट्र है,दबाव और सोशल मिडिया से अपनी सुरक्षा नीति नहीं बदलता है ।पैसे पर हमारी नीति चलती तो आपको सुरक्षा एजेंसियों के विरोध के बावजूद रेड कार्पेट वेलकम करते,आप तो अमेरिका से लेकर ब्रिटेन तक राजनीतिक दलों को सहयोग से भी ज़्यादा सहयोग करते हैं?
— Dr Nishikant Dubey (@nishikant_dubey) October 11, 2026
’پیسے کے دم پر طے نہیں ہوتیں بھارت کی پالیسیاں‘
ایلون مسک کے ان بیانات پر جوابی حملہ کرتے ہوئے، جن میں انہوں نے بھارتی بازار میں مسابقت اور کاروباری فوائد کی وکالت کی تھی، نشی کانت دوبے نے کہا کہ اگر بھارت کی قومی پالیسیاں صرف پیسے اور کاروبار کی بنیاد پر طے ہوتیں تو سلامتی ایجنسیوں کے اعتراضات کے باوجود مسک کا استقبال سرخ قالین بچھا کر کیا جا چکا ہوتا۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ملک کی خودمختاری اور ڈیٹا کی سلامتی حکومت کے لیے سب سے اہم ہیں۔ کسی بھی غیر ملکی کمپنی کو بھارت میں کام کرنے کی اجازت اسی وقت دی جا سکتی ہے، جب وہ قومی سلامتی کے سخت معیارات پر پوری اترے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



