Bharat Express DD Free Dish

BRICS

اجلاس میں برازیل، روس، چین، جنوبی افریقہ، متحدہ عرب امارات، مصر، ایران، انڈونیشیا اور ایتھوپیا سمیت مختلف برکس ممالک کے اعلیٰ سطحی نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کے موقع پر قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال نے کئی شراکت دار ممالک کے نمائندوں کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں بھی کیں، جن میں سلامتی، علاقائی تعاون اور مشترکہ مفادات سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن رواں سال 12 اور 13 ستمبر کو نئی دہلی میں منعقد ہونے والے برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت کا دورہ کریں گے۔ روسی حکومت نے اس بات کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔ دوسری جانب وزیر اعظم نریندر مودی بھی اس سال کے آخر میں روس کا دورہ کریں گے، جہاں دونوں ممالک کے درمیان سالانہ سربراہ اجلاس منعقد ہونے کی توقع ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے بھارت اور ایران کے تعلقات کو مضبوط قرار دیتے ہوئے کہا کہ تہران دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کو مزید آگے بڑھانے کے لیے پُرعزم ہے۔

نئی دہلی میں جمعرات کے روز ایک اہم سفارتی ملاقات اس وقت دیکھنے میں آئی جب روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب روسی وزیر خارجہ دو روزہ برکس وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت کے دورے پر موجود ہیں۔

وزیراعظم مودی نے جمعرات کے روز کانفرنس میں شریک غیر ملکی وفود سے ’سیوا تیرتھ‘ میں رسمی ملاقات کی۔ وزارت خارجہ کی جانب سے پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت وزیراعظم نے مختلف ممالک سے آئے ہوئے نمائندوں کا خیر مقدم کیا۔ اس ملاقات کے دوران باہمی تعلقات، اقتصادی شراکت داری اور عالمی سطح پر مشترکہ تعاون کے مختلف پہلوؤں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

فرانسیسی صدر نے کہا کہ بھارت اور فرانس کے درمیان دفاعی تعاون دونوں ممالک کے لیے انتہائی مفید ثابت ہو رہا ہے اور مستقبل میں رافیل طیاروں کی مشترکہ تیاری (کو پروڈکشن) کو مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ پنڈوبیوں کے شعبے میں بھی اسی نوعیت کا تعاون ممکن ہوگا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے رک سانچیز نے ان کے دوہرے معیار کی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ٹرمپ پوٹن سے ملتے ہیں تو وہ درست ہے، بیجنگ سے بات کر کے ٹیرف کی تاریخ آگے بڑھا رہے ہیں،

ذرائع کے مطابق دونوں کے درمیان اقوام متحدہ میں اصلاحات، عالمی امن، پائیدار ترقی، اور جنوبی ایشیائی خطے کی سلامتی سے متعلق موضوعات پر گفتگو ہوئی۔

انھوں نے مزید کہا کہ ہندوستان، برازیل، روس، ہندوستان، چین اور جنوبی افریقہ پر مشتمل بلاک کی قیادت کے دوران عوام پر مبنی ترقی کے جذبے کو آگے بڑھائے گا۔

انھوں  نے کہا کہ ’’جب عالمی نظم دباؤ کا شکار ہو تو BRICS جیسا پلیٹ فارم ایک متوازن نظام کی رہنمائی میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔‘‘