Bharat Express DD Free Dish

BRICS

نئی دہلی میں جمعرات کے روز ایک اہم سفارتی ملاقات اس وقت دیکھنے میں آئی جب روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب روسی وزیر خارجہ دو روزہ برکس وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت کے دورے پر موجود ہیں۔

وزیراعظم مودی نے جمعرات کے روز کانفرنس میں شریک غیر ملکی وفود سے ’سیوا تیرتھ‘ میں رسمی ملاقات کی۔ وزارت خارجہ کی جانب سے پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت وزیراعظم نے مختلف ممالک سے آئے ہوئے نمائندوں کا خیر مقدم کیا۔ اس ملاقات کے دوران باہمی تعلقات، اقتصادی شراکت داری اور عالمی سطح پر مشترکہ تعاون کے مختلف پہلوؤں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

فرانسیسی صدر نے کہا کہ بھارت اور فرانس کے درمیان دفاعی تعاون دونوں ممالک کے لیے انتہائی مفید ثابت ہو رہا ہے اور مستقبل میں رافیل طیاروں کی مشترکہ تیاری (کو پروڈکشن) کو مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ پنڈوبیوں کے شعبے میں بھی اسی نوعیت کا تعاون ممکن ہوگا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے رک سانچیز نے ان کے دوہرے معیار کی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ٹرمپ پوٹن سے ملتے ہیں تو وہ درست ہے، بیجنگ سے بات کر کے ٹیرف کی تاریخ آگے بڑھا رہے ہیں،

ذرائع کے مطابق دونوں کے درمیان اقوام متحدہ میں اصلاحات، عالمی امن، پائیدار ترقی، اور جنوبی ایشیائی خطے کی سلامتی سے متعلق موضوعات پر گفتگو ہوئی۔

انھوں نے مزید کہا کہ ہندوستان، برازیل، روس، ہندوستان، چین اور جنوبی افریقہ پر مشتمل بلاک کی قیادت کے دوران عوام پر مبنی ترقی کے جذبے کو آگے بڑھائے گا۔

انھوں  نے کہا کہ ’’جب عالمی نظم دباؤ کا شکار ہو تو BRICS جیسا پلیٹ فارم ایک متوازن نظام کی رہنمائی میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔‘‘

وزیر اعظم مودی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، آئی ایم ایف، عالمی بینک اور WTO جیسے اداروں میں فوری اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔

انھوں نے مزید بتایا کہ وہ کولکاتہ میں بھارت چیمبر آف کامرس کے ساتھ ملاقات کر چکے ہیں تاکہ باہمی تجارت، سرمایہ کاری اور تعاون کو مزید وسعت دی جا سکے۔

واضح رہے کہ BRICS کا آغاز 2006 میں روس، بھارت، اور چین کے لیڈران کی ملاقات سے ہوا تھا، جب کہ 2010 میں جنوبی افریقہ کی شمولیت کے بعد یہ BRICS کہلایا۔