نئی دہلی: ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای گزشتہ تقریباً 150 دن سے عوامی طور پر نظر نہیں آئے ہیں، جس کے باعث ان کی صحت، مقام اور کردار سے متعلق مختلف قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ متعدد بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد اور امریکی خفیہ ادارہ سی آئی اے ان کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم اس حوالے سے کسی بھی فریق کی جانب سے باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ برطانوی اخبار دی ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے گزشتہ تقریباً 150 دن کے دوران نہ موبائل فون استعمال کیا، نہ لیپ ٹاپ، ریڈیو یا کوئی ایسا آلہ جس سے ڈیجیٹل سگنل خارج ہو۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ ممکنہ طور پر کسی زیر زمین محفوظ مقام پر مقیم ہیں، جس کی وجہ سے تکنیکی نگرانی کے ذریعے ان کا سراغ لگانا مشکل ہو گیا ہے۔
انٹیلی جنس ادارے اب انسانی ذرائع پر کررہے ہیں انحصار
رپورٹس کے مطابق ابتدا میں تکنیکی نگرانی اور سگنل انٹیلی جنس پر انحصار کیا جا رہا تھا، تاہم مجتبیٰ خامنہ ای کی مسلسل غیر موجودگی کے باعث اب انسانی ذرائع (ہیومن انٹیلی جنس) کے ذریعے معلومات حاصل کرنے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ طریقہ زیادہ پیچیدہ، سست اور خطرات سے بھرپور سمجھا جاتا ہے۔
صحت اور مقام کے بارے میں مختلف دعوے
بین الاقوامی میڈیا میں یہ دعوے بھی سامنے آئے ہیں کہ فروری میں ہونے والے حملے میں مجتبیٰ خامنہ ای زخمی ہوئے تھے اور ممکنہ طور پر ان کے چہرے سمیت جسم کے دیگر حصوں پر بھی زخم آئے۔ دوسری جانب بعض ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ صحت یاب ہو رہے ہیں اور سکیورٹی وجوہات کی بنا پر عوامی تقریبات سے دور ہیں۔ ان متضاد دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای کی طویل غیر موجودگی نے ایران کے اندر اور بیرون ملک مختلف سیاسی اور تجزیاتی بحثوں کو جنم دیا ہے۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ ان کی عدم موجودگی سے قیادت کے حوالے سے سوالات پیدا ہو رہے ہیں، جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں سکیورٹی خدشات اس کی بنیادی وجہ ہو سکتے ہیں۔ اس حوالے سے مختلف دعوے سامنے آ رہے ہیں، لیکن ان میں سے کئی کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



